مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

دھاندلی سے بنی حکومت آزاد کشمیر کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دے گی، چوہدری یاسین

دھاندلی سے بنی حکومت آزاد کشمیر کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دے گی، چوہدری یاسین

دھاندلی سے بنی حکومت آزاد کشمیر کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دے گی، چوہدری یاسین

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سینئر پارلیمنٹرین چوہدری محمد یاسین نے حالیہ آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے انتخابی عمل پر اثرانداز ہو کر عوام کے جمہوری مینڈیٹ پر شب خون مارا۔ انہوں نے کہا کہ مبینہ دھاندلی کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت آزاد کشمیر کے پہلے سے سنگین سیاسی، معاشی اور انتظامی مسائل کو مزید پیچیدہ کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت پسند جماعت ہے اور اس نے ہمیشہ ذاتی مفادات کے بجائے جمہوریت اور پارلیمانی نظام کو ترجیح دی ہے۔ ماضی میں بھی پیپلز پارٹی کو انتخابی ناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کے تسلسل کی خاطر کم نشستیں ملنے کے باوجود اسمبلی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انتخابی نتائج پر تحفظات کے باوجود جمہوری عمل کو مضبوط بنانے اور پارلیمانی نظام کے تسلسل کے لیے ایوان کا راستہ اختیار کیا۔

2016 کے آزاد کشمیر انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی موجودہ چیف الیکشن کمشنر ہی اس منصب پر فائز تھے اور نتائج مرتب ہونے سے قبل ہی نتائج آنا شروع ہوگئے تھے۔ ان کے بقول گنتی شروع ہونے سے قبل ہی ان سمیت چوہدری عبدالمجید کی شکست کا اعلان کردیا گیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے اس کی کوئی تردید نہیں کی گئی۔

چوہدری محمد یاسین نے دعویٰ کیا کہ انہیں باقاعدہ رزلٹ فراہم کرنے سے بھی انکار کیا گیا اور صبح کے وقت سادہ کاغذ پر نتیجہ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات انتخابی تاریخ کا حصہ ہیں اور ان سے متعلق سوالات آج بھی جواب طلب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2016 میں بھی پیپلز پارٹی کو صرف تین نشستیں ملیں، تاہم قیادت کی ہدایت پر جمہوریت کے تسلسل کی خاطر اسمبلی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے کبھی جمہوری نظام کو پٹڑی سے اتارنے کی سیاست نہیں کی بلکہ ہر دور میں پارلیمانی نظام کے تسلسل اور عوام کے حق حکمرانی کے لیے جدوجہد کی ہے۔

حالیہ انتخابات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مبینہ دھاندلی کے ٹھوس شواہد اور اپنے تحفظات متعلقہ فورمز کے سامنے پیش کیے، لیکن تحقیقات کے بجائے متنازع حلقوں کے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کردیئے گئے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ شکایات اور الزامات کی تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی اتنی جلدی کیوں کی گئی۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر پر بھی الزام عائد کیا کہ انہیں مبینہ طور پر اسی مقصد کے لیے لایا گیا تھا۔

چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور عوام کے مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ہر آئینی و جمہوری فورم پر اپنا مقدمہ لڑے گی۔ پارٹی انتخابی نتائج کے خلاف اپنے آئینی و جمہوری حق سے دستبردار نہیں ہوگی اور مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر پہلے ہی سیاسی، معاشی اور انتظامی مشکلات سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں اگر دھاندلی کے الزامات سے گھری ہوئی حکومت وجود میں آتی ہے تو اس کے لیے عوام کا اعتماد حاصل کرنا بڑا چیلنج ہوگا۔

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر نے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ سیاسی استحکام کے بجائے مزید انتشار کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر آزاد کشمیر کے وسیع تر مفاد، جمہوری اصولوں اور عوام کے حق رائے دہی کا تحفظ کریں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے ووٹ کی حرمت پامال کرکے نہ حقیقی جمہوریت قائم کی جا سکتی ہے اور نہ ہی دیرپا سیاسی استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اگر سیاسی قوتوں نے عوام کے فیصلے کا احترام نہ کیا تو اس کے اثرات آزاد کشمیر کے سیاسی مستقبل پر مرتب ہوں گے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں