چھتوں سے بارش کا پانی جمع کرکے شہری گرمی اور ایئر کنڈیشننگ میں کمی ممکن

چھتوں سے بارش کا پانی جمع کرکے شہری گرمی اور ایئر کنڈیشننگ میں کمی ممکن
اسلام آباد: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ عمارتوں کی چھتوں سے بارش کا پانی جمع کرکے شدید گرمی کے دوران اسی پانی کو چھتوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو شہری درجہ حرارت، ہیٹ ویو کے دنوں اور ایئر کنڈیشننگ کی ضرورت میں کمی لائی جاسکتی ہے۔
یونیورسٹی آف مانچسٹر کے محققین نے جاپان کے شہر ٹوکیو کو کیس اسٹڈی بناتے ہوئے ایک ایسے نظام کا ماڈل تیار کیا جس میں چھتوں سے جمع ہونے والا بارش کا پانی ٹینکوں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے اور گرم موسم میں اسے خودکار نظام کے ذریعے چھتوں پر اسپرے کیا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق پانی کے بخارات بننے کے عمل سے چھت کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں عمارت کے اندر منتقل ہونے والی حرارت میں کمی آتی ہے۔ اس طرح ایئر کنڈیشننگ کی ضرورت اور بجلی کی کھپت بھی کم ہوسکتی ہے۔
محققین کے مطابق ایئر کنڈیشننگ کے استعمال میں کمی سے صرف بجلی کی بچت نہیں ہوتی بلکہ عمارتوں سے خارج ہونے والی اضافی حرارت بھی کم ہوتی ہے، جس سے شہری علاقوں میں مجموعی درجہ حرارت اور ہیٹ ویو کی شدت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نظام کو فعال کرنے کا مناسب وقت، مثلاً چھت کے ایک مخصوص درجہ حرارت تک پہنچنے پر پانی کا اسپرے شروع کرنا، پانی کے ذخیرے کی مقدار سے زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔ محققین کے مطابق بہت بڑے ٹینک رکھنے سے اضافی فوائد محدود رہتے ہیں، جبکہ ضرورت سے زیادہ پانی چھڑکنے سے بھی لازماً زیادہ ٹھنڈک حاصل نہیں ہوتی۔
یونیورسٹی آف مانچسٹر کے محقق ڈاکٹر ژونگ ہوا ژینگ کے مطابق دنیا بھر کے شہروں کو بڑھتی ہوئی شدید گرمی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایئر کنڈیشننگ گرمی سے تحفظ فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے لیے بڑی مقدار میں توانائی درکار ہوتی ہے اور یہ شہری ماحول میں اضافی حرارت بھی خارج کرتی ہے۔ بارش کے پانی کو جمع کرکے اسے مؤثر انداز میں ٹھنڈک کے لیے استعمال کرنا توانائی کی طلب اور شہری درجہ حرارت کم کرنے کا ایک قابل عمل طریقہ ہوسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق گرم سالوں میں اس نظام کے فوائد مزید نمایاں ہوسکتے ہیں۔ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے سے شدید بارش کے دوران شہری علاقوں میں پانی کے بہاؤ اور نکاسی آب کے نظام پر دباؤ کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2022 میں دنیا بھر میں اسپیس کولنگ کے لیے تقریباً 2,100 ٹیرا واٹ آور بجلی استعمال ہوئی، جو اس سال کی عالمی بجلی کھپت کا تقریباً 7 فیصد تھی۔
تحقیق میں شہری گرمی کم کرنے کے لیے دیگر اقدامات، بالخصوص کول روفز، کو بھی مؤثر قرار دیا گیا ہے۔ 2024 کی ایک تحقیق کے مطابق لندن میں بڑی تعداد میں چھتوں کو سفید یا عکاس رنگ میں تبدیل کرنے سے جون سے اگست کے دوران شہر کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کیا جاسکتا تھا۔
محققین کے مطابق بارش کے پانی سے چھتوں کو ٹھنڈا کرنے کا نظام مختلف شہروں میں مقامی موسمی حالات، پانی کی دستیابی اور لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے شہری منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔