بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میں سعودی عرب اول، طلبہ نے 4 تمغے جیت لیے

بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میں سعودی عرب اول، طلبہ نے 4 تمغے جیت لیے
جدہ: سعودی عرب نے تیسرے بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ 2026 میں مجموعی طور پر پہلی پوزیشن حاصل کرلی، سعودی طلبہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2 طلائی، ایک چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔
سعودی گزٹ کے مطابق سعودی طالب علم امجد محمود عیسیٰ الدرویش نے نظری اور عملی امتحانات میں سب سے زیادہ مجموعی اسکور حاصل کرکے طلائی تمغہ جیتا۔ انہیں ”نیوکلیئر سائنس ایمبیسیڈر“ کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
سعودی طالبہ جنا صالح السبیل نے بھی طلائی تمغہ حاصل کیا اور انہیں ”بہترین طالبہ“ کا اعزاز دیا گیا۔ یہ خصوصی ایوارڈ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی منظوری سے دیا گیا، جس کا مقصد جوہری سائنس کے شعبے میں طالبات کی سائنسی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

اولمپیاڈ کے دوران جنا السبیل سمیت شرکا نے نظری اور عملی، دو امتحانات میں حصہ لیا۔ ہر امتحان پانچ گھنٹے جاری رہا، جس میں طلبہ کے جوہری سائنس سے متعلق علم، سائنسی تجزیے، تجربات، نتائج کی تشریح اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا۔
سعودی طالب علم عبدالعزیز عبدالمحسن الشرائت نے چاندی جبکہ صالح مبارک ضیف اللہ الحربی نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔
تیسرا بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ 2 سے 9 اگست تک سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقد ہوا، جس میں 19 ممالک سے 120 طلبہ اور سائنسی ماہرین نے شرکت کی۔
اولمپیاڈ کا انعقاد سعودی وزارت تعلیم، کنگ عبدالعزیز اینڈ ہز کمپینئنز فاؤنڈیشن فار گفٹڈنس اینڈ کری ایٹیویٹی (موہبہ) اور کنگ عبداللہ سٹی فار اٹامک اینڈ رینیوایبل انرجی کے اشتراک سے کیا گیا، جبکہ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی نے مقابلوں اور دیگر سرگرمیوں کی میزبانی کی۔
بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کو 2024 میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی منظوری حاصل ہوئی تھی۔ یہ ثانوی اسکول کے طلبہ کے لیے منعقد ہونے والا عالمی سائنسی مقابلہ ہے، جس کا مقصد نیوکلیئر سائنس اور اس کے پُرامن استعمال سے متعلق طلبہ کے علم اور عملی مہارتوں کو فروغ دینا، تحقیق و جدت کی حوصلہ افزائی کرنا اور نوجوانوں کو اس شعبے کی جانب راغب کرنا ہے۔