مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سعودی علاقہ جازان آم، کیلے، پپیتے اور امرود کی پیداوار کا بڑا مرکز بن گیا

سعودی علاقہ جازان آم، کیلے، پپیتے اور امرود کی پیداوار کا بڑا مرکز بن گیا (تصویر 1)

سعودی علاقہ جازان آم، کیلے، پپیتے اور امرود کی پیداوار کا بڑا مرکز بن گیا

جازان: سعودی عرب کا خطہ جازان آم، کیلے، پپیتے اور امرود سمیت گرم علاقوں میں پیدا ہونے والے مختلف پھلوں کی کاشت کا اہم مرکز بن گیا ہے، جہاں سازگار آب و ہوا اور جدید زرعی طریقوں کے باعث پھلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سعودی علاقہ جازان آم، کیلے، پپیتے اور امرود کی پیداوار کا بڑا مرکز بن گیا (تصویر 2)

سعودی گزٹ کے مطابق جازان میں آم کے 10 لاکھ سے زائد درخت موجود ہیں جن سے سالانہ تقریباً 65 ہزار ٹن آم پیدا ہوتے ہیں۔ یہ پیداوار سعودی عرب میں ہونے والی مجموعی آم کی پیداوار کا تقریباً 60 فیصد ہے، جس کے باعث جازان ملک کا سب سے بڑا آم پیدا کرنے والا خطہ بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جازان میں پپیتے کے 8 لاکھ سے زائد درخت سالانہ 40 ہزار ٹن سے زیادہ پیداوار دیتے ہیں، جبکہ ایک ملین سے زائد کیلے کے درختوں سے ہر سال تقریباً 15 ہزار ٹن کیلے حاصل کیے جاتے ہیں۔

سعودی علاقہ جازان آم، کیلے، پپیتے اور امرود کی پیداوار کا بڑا مرکز بن گیا (تصویر 3)

خطے میں امرود کی کاشت بھی کی جا رہی ہے اور 6 ہزار سے زائد امرود کے درخت سالانہ تقریباً 60 ٹن پیداوار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسٹرڈ ایپل کے 4,200 سے زائد درخت موجود ہیں جن سے سالانہ 42 ٹن سے زیادہ پھل حاصل ہوتا ہے۔

سعودی گزٹ کے مطابق جازان کی گرم آب و ہوا اور قدرتی وسائل گرم علاقوں کے پھلوں کی کاشت کے لیے موزوں ہیں، جبکہ سعودی وزارت ماحولیات، پانی و زراعت اور مقامی کاشتکاروں کی کوششوں سے زرعی پیداوار کو مزید فروغ مل رہا ہے۔

سعودی علاقہ جازان آم، کیلے، پپیتے اور امرود کی پیداوار کا بڑا مرکز بن گیا (تصویر 4)

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی اور بہتر کاشتکاری کے طریقوں کے استعمال سے پیداوار کی کارکردگی اور پھلوں کے معیار میں بہتری لانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

جازان میں ”ٹراپیکل فروٹس اینڈ گرین ہاؤسز“ کے نام سے ایک بڑے منصوبے پر بھی کام جاری ہے، جس میں 60 کروڑ سعودی ریال سے زیادہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ 20 لاکھ مربع میٹر رقبے پر محیط ہے۔

اس منصوبے کا مقصد گرم علاقوں کے پھلوں کی پیداوار بڑھانے، جدید زرعی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے اور مقامی زرعی مصنوعات کی قدر میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں زرعی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

جازان میں پھلوں کی بڑھتی ہوئی پیداوار سعودی عرب کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ دیہی معیشت، روزگار اور پائیدار زرعی ترقی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں