مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

اسٹیٹ بینک کی ایس ایم ایز فنانسنگ بڑھانے کے لیے نئی حکمت عملی

اسٹیٹ بینک کی ایس ایم ایز فنانسنگ بڑھانے کے لیے نئی حکمت عملی (تصویر 1)

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے چیف منیجر انصر افتخار بٹ نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کی فنانسنگ میں اضافے کے لیے ایک نئی حکمت عملی وضع کی جا رہی ہے۔ اس نئی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایس ایم ایز کے لیے ویلیو چین فنانسنگ کو فروغ دینا اور ایسی کمپنیوں کی مالی معاونت اور ہینڈ ہولڈنگ پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا ہے جو معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ بات انہوں نے اپنے دورہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے موقع پر کہی۔

ایس ایم ایز کے لیے متبادل فنانسنگ ماڈلز کی ضرورت

اس موقع پر لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر تنویر احمد شیخ نے وفد کا استقبال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایس ایم ایز کے لیے روایتی کولیٹرل (اثاثہ جات کی ضمانت) پر مبنی فنانسنگ کے بجائے متبادل فنانسنگ ماڈلز متعارف کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ لوکل ایل سی (LC) ماڈلز اور انشورنس پر مبنی فنانسنگ میکانزم کو بروئے کار لا کر چھوٹے کاروباروں کو سہولت دی جا سکتی ہے۔ امریکی ناظم الامور کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے اہم ملاقات کی طرز پر ہی ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ایسے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی ایس ایم ایز فنانسنگ بڑھانے کے لیے نئی حکمت عملی (تصویر 2)

ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مشکلات اور حل

تنویر احمد شیخ نے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش سنگین مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بینک ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فنانسنگ فراہم کرنے سے گریزاں ہیں، جس کے باعث پیداواری اور برآمدی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ صنعتی شعبوں کو درپیش بینکنگ بحران کے فوری خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اس ضمن میں خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کا خصوصی بچوں کی بہتری کا عزم سماجی ترقی کی طرح معاشی ترقی کے لیے بھی یکسوئی کی ضرورت ہے۔

اسٹیٹ بینک ڈیسک کے قیام کی تجویز

لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر نے تجویز پیش کی کہ چیمبر کی عمارت میں اسٹیٹ بینک کا ایک مستقل ڈیسک قائم کیا جائے تاکہ کاروباری برادری کے فنانسنگ سے متعلقہ معاملات کو براہ راست حل کیا جا سکے اور غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ ممکن ہو۔ انہوں نے ‘آسان کاروبار سکیم’ کے طریقہ کار کو مزید سادہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ چیف منیجر انصر افتخار بٹ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسٹیٹ بینک لاہور چیمبر کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور بڑی کمپنیوں کی جانب سے ایس ایم ایز کے لیے ضمانت فراہم کرنے جیسے اقدامات سے ڈاکومینٹیشن کے مسائل کو حل کیا جائے گا۔ ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا تمام 32 ڈویژنز کو انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ کی طرح معاشی اصلاحات کے لیے بھی چیمبرز کے ساتھ قریبی رابطہ ضروری ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں