مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

میاں کاشف اشفاق: کاروبار سے قیادت تک، بصیرت، جدت اور خدمت کی روشن روایت

میاں کاشف اشفاق: کاروبار سے قیادت تک، بصیرت، جدت اور خدمت کی روشن روایت (تصویر 1)

میاں کاشف اشفاق: کاروبار سے قیادت تک، بصیرت، جدت اور خدمت کی روشن روایت

پاکستان کے بدلتے ہوئے کاروباری منظرنامے میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض کاروبار تک محدود نہیں رہتیں بلکہ صنعت، معیشت، سماجی ذمہ داری اور عوامی خدمت کے وسیع تر دائرے میں اپنی ایک نمایاں شناخت قائم کرتی ہیں۔ میاں محمد کاشف اشفاق بھی ایسی ہی شخصیت ہیں، جن کے سفر میں کاروباری بصیرت، صنعتی قیادت، جدت، ادارہ سازی اور انسان دوستی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

ان کا سفر صرف کامیاب کاروباری منصوبوں کی داستان نہیں بلکہ وژن، محنت، قیادت اور معاشرتی ذمہ داری کے ایک ایسے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے جس نے انہیں پاکستان کے کاروباری اور صنعتی حلقوں میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ایک جانب انہوں نے ChenOne کو ایک ممتاز لائف اسٹائل برانڈ کی حیثیت سے آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا، تو دوسری جانب پاکستان کے فرنیچر سیکٹر کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔

ان کی داستان کو سمجھنے کے لیے اس خاندانی پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس میں کاروبار، سیاست، صنعت اور عوامی خدمت ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ میاں کاشف اشفاق کے لیے یہ ماحول محض خاندانی ورثہ نہیں تھا بلکہ قیادت، محنت اور ذمہ داری کے ان تصورات کی پہلی درس گاہ بھی تھا جنہوں نے بعد میں ان کی عملی زندگی کی سمت متعین کی۔

میاں کاشف اشفاق کے والد چوہدری محمد اشفاق ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے معروف کاروباری اور تجربہ کار سیاسی رہنما رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے سیاسی زندگی کا آغاز کیا، بعد ازاں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پھر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ضلعی ناظم کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

میاں کاشف اشفاق: کاروبار سے قیادت تک، بصیرت، جدت اور خدمت کی روشن روایت (تصویر 2)

چوہدری محمد اشفاق کی سیاسی زندگی اپنے حلقے اور علاقے کے عوام کے ساتھ مضبوط وابستگی سے عبارت رہی۔ انہوں نے 1980 کی دہائی کے اواخر میں انتخابی سیاست میں قدم رکھا اور پنجاب اسمبلی میں نمائندگی کے بعد 1993 میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعد ازاں ضلع ناظم کی حیثیت سے انہوں نے ایک ایسے دور میں مقامی انتظامیہ کی قیادت کی جب پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نظام کو نئی شکل دی جا رہی تھی۔

اس خاندان کی شناخت تاہم صرف سیاست تک محدود نہیں رہی۔ چوہدری محمد اشفاق کا تعلق ایک ایسے ممتاز صنعتی خاندان سے ہے جس کی کاروباری جڑیں فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ ان کے بڑے بھائی میاں محمد لطیف نے Chenab Group کی بنیاد رکھی، جو پاکستان کے ٹیکسٹائل اور ریٹیل شعبے میں ایک اہم نام بن کر ابھرا۔

اسی ماحول میں کاشف اشفاق نے کاروبار کو محض معاشی سرگرمی کے طور پر نہیں بلکہ ایک وسیع تر ذمہ داری کے طور پر دیکھنا سیکھا۔ یہاں تجارت کے ساتھ عوامی زندگی، کاروباری فیصلوں کے ساتھ معاشرتی تقاضے اور کامیابی کے ساتھ خدمت کا احساس بھی موجود تھا۔ یہی پس منظر ان کی آئندہ قیادت کے فکری خدوخال کی تشکیل میں اہم ثابت ہوا۔

1990 کی دہائی میں خاندانی کاروبار میں شمولیت کے بعد کاشف اشفاق نے ریٹیل اور صارفین کے ساتھ براہِ راست رابطے کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا شروع کیا۔ ان کے کاروباری سفر میں ایک اہم باب اس وقت رقم ہوا جب انہوں نے ChenOne کی قیادت میں اپنا وژن آگے بڑھایا۔

ان کی قیادت میں ChenOne روایتی ٹیکسٹائل ریٹیل سے آگے بڑھ کر ایک جامع لائف اسٹائل برانڈ کے تصور میں ڈھلتا گیا۔ فیشن، ہوم ٹیکسٹائل، فرنیچر اور انٹیریئر ڈیکور کو ایک ہی برانڈ کے دائرے میں سمیٹنے کے تصور نے اسے ایک مختلف شناخت دی، جبکہ کاشف اشفاق نے برانڈ کی توسیع کے ساتھ ڈیزائن اور معیار کے بین الاقوامی تقاضوں کو بھی اہمیت دی۔

میاں کاشف اشفاق: کاروبار سے قیادت تک، بصیرت، جدت اور خدمت کی روشن روایت (تصویر 3)

ان کے کاروباری فلسفے کا بنیادی نکتہ واضح ہے: پاکستانی مصنوعات کو صرف مقامی منڈی کے لیے نہیں بلکہ عالمی معیار کے مطابق تیار ہونا چاہیے۔ ان کے نزدیک پاکستانی مصنوعات میں ایسی دستکاری، معیار، ڈیزائن اور شناخت ہونی چاہیے جو انہیں دنیا کی کسی بھی مارکیٹ میں اعتماد کے ساتھ اپنا مقام بنانے کے قابل بنائے۔

یہی سوچ آگے چل کر ان کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکزی محور بنی اور پاکستان کے فرنیچر سیکٹر کے لیے ان کے وژن میں بھی نمایاں طور پر سامنے آئی۔

پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے کاشف اشفاق نے فرنیچر اور انٹیریئرز کے شعبے کے لیے ایک وسیع تر معاشی وژن پیش کیا۔ ان کی قیادت میں Pakistan Furniture Council نے فرنیچر کو محض مقامی مینوفیکچرنگ کے ایک شعبے کے بجائے برآمدات، روزگار، زرمبادلہ اور پاکستانی ہنر کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی صلاحیت رکھنے والی صنعت کے طور پر اجاگر کرنے پر توجہ دی۔

پاکستان کے فرنیچر سیکٹر کو عالمی مارکیٹ سے جوڑنے کے لیے مختلف سرگرمیوں میں Pakistan Interiors Furniture Expos اور بین الاقوامی تجارتی وفود نے اہم کردار ادا کیا۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستانی صنعت کاروں کو غیر ملکی خریداروں، انٹیریئر ڈیزائنرز، سرمایہ کاروں اور صنعتی شراکت داروں سے رابطے کے مواقع فراہم کیے گئے۔

بین الاقوامی روابط کے اس سلسلے میں چین، ترکی اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کو بھی اہمیت حاصل رہی، جہاں ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ منصوبوں اور جدید پیداواری طریقوں کے امکانات پر توجہ مرکوز کی گئی۔

میاں کاشف اشفاق: کاروبار سے قیادت تک، بصیرت، جدت اور خدمت کی روشن روایت (تصویر 4)

کاشف اشفاق کے نزدیک فرنیچر محض لکڑی، کپڑے، ڈیزائن اور خوبصورتی کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی زنجیر ہے۔ اس زنجیر میں کاریگر، ڈیزائنر، صنعت کار، برآمد کنندہ اور نوجوان کاروباری سب اپنی اپنی جگہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ان کا مقصد پاکستان کی صدیوں پر محیط دستکاری اور ہنرمندی کو جدید ٹیکنالوجی، معاصر ڈیزائن اور عالمی مارکیٹنگ کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسی صنعت میں تبدیل کرنا ہے جو عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھتی ہو۔

کاشف اشفاق کی کاروباری سوچ میں Made in Pakistan محض ایک تجارتی لیبل نہیں بلکہ ایک وسیع تر تصور کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ویلیو ایڈیشن، مؤثر برانڈنگ، ڈیزائن میں جدت اور ہدفی مارکیٹنگ کو اس راستے کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں جو پاکستانی مصنوعات کو کم مالیت کی برآمدات سے نکال کر اعلیٰ معیار کی عالمی منڈیوں تک پہنچا سکتا ہے۔

ان کے بین الاقوامی روابط اور تجارتی پروگراموں کا مقصد صرف پاکستانی مصنوعات کی نمائش نہیں بلکہ ملکی کاروباری اداروں کے لیے حقیقی مواقع پیدا کرنا بھی ہے، تاکہ دنیا کے سامنے پاکستان کی صنعتی، تکنیکی اور تخلیقی صلاحیت کو اعتماد کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔

کاشف اشفاق کی قیادت کا دائرہ کاروباری اداروں سے آگے بڑھ کر صنعتی ادارہ سازی تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ ان کے پیشہ ورانہ سفر کا ایک اہم باب اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (FIEDMC) کے چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔

میاں کاشف اشفاق: کاروبار سے قیادت تک، بصیرت، جدت اور خدمت کی روشن روایت (تصویر 5)

ان کی قیادت کے دوران فیصل آباد کے بڑے صنعتی مراکز، جن میں M-3 Industrial City اور Allama Iqbal Industrial City شامل ہیں، کی ترقی اور فروغ پر توجہ دی گئی۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب فیصل آباد کی صنعتی صلاحیت کو مزید وسعت دینے، سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بہتر صنعتی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔

اس ذمہ داری کے دوران سرمایہ کاری کے حصول، انفراسٹرکچر کی بہتری اور صنعتی سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری کو ترجیح دی گئی۔ یوں ایک کاروباری شخصیت کا سفر ادارہ سازی اور صنعتی قیادت کی جانب مزید آگے بڑھا۔

کاشف اشفاق کے نزدیک صنعتی ترقی صرف فیکٹریاں قائم کرنے یا سرمایہ کاری حاصل کرنے کا نام نہیں۔ ان کے خیال میں پائیدار صنعتی ترقی کے لیے ایسی پالیسیوں اور اصلاحات کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں، برآمدات میں اضافہ کریں اور جدید صنعت کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار کریں۔

اسی لیے تکنیکی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی بھی ان کی ترجیحات میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا یہ نقطۂ نظر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ کسی بھی صنعت کی پائیدار ترقی صرف سرمایہ اور مشینری سے نہیں بلکہ انسان کے علم، ہنر اور صلاحیت سے ممکن ہوتی ہے۔

کاروباری اور صنعتی قیادت کے ساتھ ساتھ کاشف اشفاق کی شخصیت کا ایک اہم پہلو سماجی ترقی اور معاشرتی بہبود کے حوالے سے ان کی سرگرمیاں ہیں۔ ان کے نزدیک کاروباری کامیابی کے ساتھ معاشرے کے لیے ذمہ داری کا احساس بھی وابستہ ہونا چاہیے۔

میاں کاشف اشفاق: کاروبار سے قیادت تک، بصیرت، جدت اور خدمت کی روشن روایت (تصویر 6)

خواتین کے معاشی بااختیار بنانے کے لیے ChenOne اور پاکستان فرنیچر کونسل سے منسلک پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کے ذریعے عملی ہنر کی ترقی پر توجہ دی گئی۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں قائم خصوصی سلائی تربیتی مرکز اسی سوچ کی ایک مثال ہے، جس کا مقصد خواتین کو مالی خودمختاری اور باوقار روزگار کی جانب بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

صحت اور فلاحی سرگرمیوں کے میدان میں ChenOne Foundation اور خاندان سے منسلک فلاحی اداروں کے ذریعے مختلف منصوبوں کی معاونت کی گئی۔ ان سرگرمیوں میں دل اور جگر کے علاج سے متعلق سہولیات اور ٹوبہ ٹیک سنگھ اور اس کے گردونواح میں مستحق مریضوں کے لیے طبی معاونت بھی شامل ہے۔

قومی بحرانوں کے دوران بھی سماجی ذمہ داری کا یہ پہلو نمایاں رہا۔ COVID-19 وبا اور شدید علاقائی سیلاب جیسے مشکل ادوار میں پاکستان فرنیچر کونسل اور ذاتی روابط کے ذریعے وسائل متحرک کیے گئے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے خوراک، ضروری اشیا اور مالی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کیا گیا۔

تعلیم اور تخلیقی صنعت کے درمیان ربط بھی کاشف اشفاق کی ترجیحات کا ایک اہم حصہ ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (PIFD) جیسے اداروں کے ساتھ ان کی وابستگی اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ تعلیمی اداروں میں پیدا ہونے والی تخلیقی صلاحیت کو صنعت کی عملی ضروریات کے ساتھ جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈیزائنر، صنعت کار اور مارکیٹ جب ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں تو تخلیقی معیشت کے لیے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ اسی تعلق کو مضبوط بنانا پاکستانی ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کی عالمی مسابقتی صلاحیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

میاں کاشف اشفاق: کاروبار سے قیادت تک، بصیرت، جدت اور خدمت کی روشن روایت (تصویر 7)

2026 میں میاں محمد کاشف اشفاق کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا، جو تجارت، صنعت، عوامی خدمت اور فرنیچر کے شعبے میں ان کی خدمات کا قومی سطح پر اعتراف ہے۔

ان کے لیے یہ اعزاز یقیناً ایک اہم سنگِ میل ہے، لیکن ان کے سفر کی اصل کہانی ان سرگرمیوں میں پوشیدہ ہے جو کاروباری کامیابی سے آگے بڑھ کر صنعت، انسان اور معاشرے کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔

آج بھی میاں محمد کاشف اشفاق کی توجہ پاکستانی کاروباری صلاحیتوں کو مزید وسعت دینے پر مرکوز ہے۔ مضبوط صنعتی ڈھانچوں کی تشکیل، ویلیو ایڈڈ برآمدات کا فروغ، نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے نئے مواقع اور ان معاشرتی طبقات کی معاونت جو ملکی معیشت کی بنیاد ہیں، ان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

ان کا سفر ایک ایسے پل کی مانند ہے جو مختلف دنیاؤں کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ ایک جانب صنعت ہے اور دوسری جانب حکومت، ایک طرف تعلیم ہے اور دوسری طرف کاروبار، جبکہ ایک سمت عالمی منڈی ہے اور دوسری طرف پاکستانی کاریگر کے ہاتھ کی مہارت۔

ان سب کے درمیان ایک تصور مسلسل موجود دکھائی دیتا ہے: ترقی اسی وقت بامعنی ہوتی ہے جب اس کے ثمرات وسیع تر معاشرے تک پہنچیں۔

میاں کاشف اشفاق کی داستان دراصل ایک ایسی روایت کی داستان ہے جس میں کاروبار میراث ہے، مگر قیادت اپنا انتخاب؛ صنعت ذریعہ ہے، مگر خدمت مقصد؛ اور کامیابی منزل ضرور ہے، مگر اس کامیابی کو معاشرے کے لیے بامعنی بنانا اس سفر کی اصل روح ہے۔

یہی وہ پہلو ہے جو انہیں محض ایک کاروباری شخصیت سے آگے لے جاتا ہے۔ ان کی شخصیت ایک ایسے عہد کی نمائندگی کرتی ہے جہاں پاکستانی کاروبار عالمی منڈیوں میں اپنی شناخت تلاش کر رہا ہے، صنعت نئی سمتوں کی متلاشی ہے، نوجوان نئی صلاحیتوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور کاروباری کامیابی کو سماجی ذمہ داری کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

اور شاید یہی میاں محمد کاشف اشفاق کے سفر کی سب سے خوبصورت جہت ہے — ایک مضبوط کاروباری میراث سے آغاز، اپنی شناخت کی تشکیل، صنعت کے لیے آواز بننے کا سفر، اور پھر اس کامیابی کو معاشرے کی خدمت سے جوڑنے کی مسلسل کوشش۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں