ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے نئی شرائط رکھ دیں

ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے نئی شرائط رکھ دیں
اسلام آباد: ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے متعدد شرائط پیش کردی ہیں، جن میں ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں اٹھانا، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنا اور ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں و دھمکیاں روکنا شامل ہیں۔
ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت تک مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے میں شامل شرائط پر عمل درآمد نہیں کرتا۔
تہران کی جانب سے امریکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائی جائیں اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے جاری کیے جائیں۔ ایران نے امریکا سے اپنے خلاف فوجی دھمکیوں اور کارروائیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنے کا معاملہ صرف تجارتی جہاز رانی یا بحری آمدورفت تک محدود نہیں بلکہ خطے میں جاری فوجی کشیدگی اور امریکا کی پالیسیوں سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔
اس سے قبل ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کو اپنی بعض پالیسیوں اور اقدامات میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے نئی پابندیوں اور ایرانی تیل کے شعبے پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے سے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے ایک عارضی راستہ قائم کرنے پر بھی بات چیت جاری ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ عارضی راستے سے متعلق مذاکرات اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کا فیصلہ دو الگ معاملات ہیں۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع دنیا کی اہم ترین تزویراتی آبی گزرگاہوں میں شامل ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے، اس لیے یہاں آمدورفت میں رکاوٹ نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کردی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی کسی مذاکرات کا شیڈول طے ہے۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رہنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا فیصلہ امریکی اقدامات اور تہران کے مطالبات پر پیش رفت سے مشروط ہوگا، جس کے باعث واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں فوری کمی کے امکانات تاحال غیر یقینی ہیں۔