آٹھ غیر یورپی ممالک بیلاروس کے خلاف یورپی یونین کی نئی پابندیوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے

آٹھ غیر یورپی ممالک بیلاروس کے خلاف یورپی یونین کی نئی پابندیوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے
برسلز: آٹھ غیر یورپی یونین ممالک نے بیلاروس کے خلاف یورپی یونین کی جانب سے عائد کی گئی تازہ پابندیوں کے ساتھ اپنی پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یورپی پابندیوں کا مقصد روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں بیلاروس کے کردار کے باعث منسک پر دباؤ بڑھانا ہے۔
یورپی یونین کے مطابق البانیہ، بوسنیا و ہرزیگووینا، آئس لینڈ، لیختن اسٹائن، مونٹی نیگرو، شمالی مقدونیہ، ناروے اور یوکرین نے 23 جولائی 2026 کو یورپی یونین کی جانب سے منظور کیے گئے تازہ پابندیوں کے اقدامات کی حمایت کی ہے۔
یورپی یونین نے ان ممالک کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیوں کا مقصد بیلاروس کو ایسی اشیا، مصنوعات اور ٹیکنالوجی کی فراہمی محدود کرنا ہے جو اس کی فوجی، دفاعی، تکنیکی یا سیکیورٹی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
تازہ پابندیوں کے تحت بیلاروس کے ساتھ تجارت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق متعدد اقدامات مزید سخت کیے گئے ہیں، خاص طور پر ایسی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کے حوالے سے جنہیں بیلاروس اپنی دفاعی اور صنعتی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ بیلاروس کے قریبی تعلقات اور یوکرین کے خلاف روسی جنگ میں منسک کی حمایت کے باعث بیلاروس پر دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت پابندیوں کے دائرے کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
تازہ اقدامات میں شامل ہونے والے تمام آٹھ ممالک یورپی یونین کے رکن نہیں ہیں، تاہم ان میں سے متعدد ممالک ماضی میں بھی یورپی یونین کی خارجہ پالیسی اور پابندیوں سے متعلق فیصلوں کے ساتھ ہم آہنگی کرتے رہے ہیں۔
یورپی یونین کی جانب سے بیلاروس پر عائد پابندیوں میں انسانی حقوق کی صورتحال، بیلاروسی حکومت کے اقدامات اور یوکرین کے خلاف روسی فوجی کارروائی میں منسک کے کردار کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
تازہ پیش رفت سے بیلاروس کے خلاف یورپی دباؤ کو مزید وسعت ملی ہے، کیونکہ یورپی یونین کے علاوہ متعدد غیر رکن ممالک نے بھی منسک کے خلاف عائد پابندیوں کے ساتھ اپنی پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔