پیپلز پارٹی کے تحفظات دور ہونے تک ن لیگ سے تعاون معطل رہے گا، بلاول بھٹو

پیپلز پارٹی کے تحفظات دور ہونے تک ن لیگ سے تعاون معطل رہے گا، بلاول بھٹو
اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے تحفظات دور ہونے تک مسلم لیگ ن کے ساتھ تعاون معطل رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت پیپلز پارٹی کے بغیر قانون سازی کرسکتی ہے تو کرلے، تاہم اتحادی جماعت کے ساتھ انصاف نہ ہوا تو مسلم لیگ ن کے ساتھ بیٹھنا مشکل ہوگا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمان کو عزت دی ہے اور چاہتی ہے کہ پارلیمان اپنا مؤثر اور فعال کردار ادا کرے۔ پارلیمانی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے قائمہ کمیٹیوں کو بھی فعال ہونا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں اپوزیشن جماعتیں قائمہ کمیٹیوں میں واپس آئیں اور پارلیمانی امور کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کریں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے جائز تحفظات دور کرنا ضروری ہے۔ اگر مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کے بغیر قانون سازی کرنا چاہتی ہے تو وہ ایسا کرسکتی ہے، لیکن اتحادی جماعت کے ساتھ انصاف نہ ہونے کی صورت میں تعاون جاری رکھنا مشکل ہوگا۔
آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو انتخابی عمل اور نتائج پر تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ ن کو ایسا متنازع الیکشن چاہیے تھا تو اسے مبارک ہو۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اتحادی جماعتوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ کسی صوبے یا علاقے پر زبردستی فیصلہ مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ جہاں عوام اور سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاق رائے موجود ہو، وہاں نئے صوبوں کے معاملے کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے معاملے پر پہلے ہی اتفاق رائے موجود ہے، جبکہ سندھ میں نئے صوبے کے قیام سے متعلق پیپلز پارٹی کا مؤقف بھی واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پنجاب کے خلاف کسی سازش کا تصور بھی نہیں کرسکتے اور صوبوں کے معاملے میں عوامی رضامندی اور سیاسی اتفاق رائے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے حق حاکمیت اور حق ملکیت کے منشور پر انتخابات میں حصہ لیا ہے اور پارٹی کی ترجیح پارلیمان کو مضبوط اور فعال بنانا ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور انہیں اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہر قیدی کو علاج اور صحت کی سہولت حاصل کرنے کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنے کے بجائے خود عمران خان کے علاج کا انتظام کرتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھا جانا چاہیے اور کسی بھی شخص کے علاج کے حق پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
انتخابی اصلاحات کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایسا انتخابی نظام چاہتی ہے جس پر انتخابات کے بعد اعتراضات نہ اٹھیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ انتخابی عمل میں بہتری کے لیے مل کر اصلاحات کریں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران کسی سیاسی کارکن کی لاش اٹھانا جمہوری عمل کے لیے افسوسناک ہوگا۔ بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کو جمہوری جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اپنی شکست کو تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی باضابطہ تجویز موصول نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک ان کے سامنے ایسی کوئی تجویز یا مسودہ نہیں آیا جس کی بنیاد پر 28ویں آئینی ترمیم کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کی جاسکے۔
حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بظاہر سب ایک پیج پر ہیں، لیکن ’’دال میں کچھ کالا ہے‘‘۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے ایک بار پھر واضح کیا کہ حکومت کے ساتھ معاملات میں پارٹی کے تحفظات کا ازالہ اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ مساوی رویہ ان کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
بلاول بھٹو کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان حکومتی اتحاد میں بعض اہم معاملات پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی نے پارلیمانی نظام میں اپنا کردار جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم اپنے تحفظات دور ہونے تک حکومت کے ساتھ تعاون معطل رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔