مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

قازاخستان پارلیمانی انتخابات: صدر توکایف کی حامی جماعت ادلیت فاتح

قازاخستان پارلیمانی انتخابات: صدر توکایف کی حامی جماعت ادلیت فاتح (تصویر 1)

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ قازاخستان میں ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں صدر قاسم جومارت توکایف کی حمایت یافتہ نئی سیاسی جماعت ادلیت نے 71 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرکے واضح برتری حاصل کرلی ہے، جس سے صدر کی سیاسی گرفت مزید مستحکم ہونے کا امکان ہے۔

انتخابی نتائج اور نئی سیاسی تشکیل

قازاخستان پارلیمانی انتخابات: صدر توکایف کی حامی جماعت ادلیت فاتح (تصویر 2)

قازاخستان کے مرکزی الیکشن کمیشن کے ابتدائی نتائج کے مطابق ادلیت رواں سال وجود میں آنے والی ایک نئی سیاسی جماعت ہے، جسے صدر توکایف کے قریبی سیاسی حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اس جماعت نے بعد ازاں سابق حکمران جماعت امانت کو بھی اپنے اندر ضم کرلیا تھا۔ واضح رہے کہ صدر زرداری کی سعودی سفیر کی خدمات کی طرح عالمی سطح پر سیاسی استحکام پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ 23 اگست کو ہونے والے انتخابات ملک میں وسیع تر آئینی اصلاحات کے بعد منعقد کیے گئے تھے۔ نئی سیاسی ساخت کے تحت سابق دو ایوانی پارلیمنٹ کی جگہ 145 نشستوں پر مشتمل یک ایوانی پارلیمنٹ ‘قورولتائی’ تشکیل دی گئی ہے۔

قازاخستان پارلیمانی انتخابات: صدر توکایف کی حامی جماعت ادلیت فاتح (تصویر 3)

اپوزیشن کا کردار اور سیاسی منظرنامہ

قازاخستان پارلیمانی انتخابات: صدر توکایف کی حامی جماعت ادلیت فاتح (تصویر 4)

ادلیت کے علاوہ ریسپبلیکا، آک ژول، نیشن وائیڈ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور آؤل پارٹی بھی پارلیمانی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ تاہم، سیاسی مبصرین کے مطابق ان میں سے بیشتر جماعتوں کے حکومت کے ساتھ قریبی روابط ہیں، جس کے باعث نئی پارلیمنٹ میں مؤثر اپوزیشن اور حکومتی پالیسیوں کو چیلنج کرنے کی گنجائش محدود رہنے کا امکان ہے۔ اس صورتحال کو موساد کے سربراہ اور شامی وزیر خارجہ کی ملاقات جیسے علاقائی پیش رفت کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

قازاخستان پارلیمانی انتخابات: صدر توکایف کی حامی جماعت ادلیت فاتح (تصویر 5)

مستقبل کے سیاسی امکانات اور تزویراتی اہمیت

حالیہ آئینی ترامیم نے قازاخستان کے سیاسی نظام میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں اور صدر کے اختیارات کو وسیع کیا گیا ہے۔ صدر توکایف، جو 2019 سے اقتدار میں ہیں، نے ابھی یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ مستقبل میں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑیں گے یا نہیں، تاہم نئی آئینی شقوں کے تحت انہیں مزید سات سالہ مدت کے لیے انتخاب لڑنے کا قانونی راستہ میسر ہے۔ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 74 فیصد سے زیادہ رہا، جو حکومت کے مطابق انتخابی عمل میں عوام کی بھرپور شرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ وسطی ایشیا میں اہم جغرافیائی اور اقتصادی حیثیت رکھنے والا قازاخستان تیل، گیس، یورینیم اور دیگر معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔ ملک روس، چین اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے، اسی لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی علاقائی امن کوششوں کی طرح قازاخستان کی داخلی سیاسی تبدیلیاں بھی علاقائی اور عالمی سطح پر انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں