یورپی یونین کے 6 بڑے ممالک کا طویل مدتی بجٹ میں سینکڑوں ارب یورو کمی کا مطالبہ

یورپی یونین کے 6 بڑے ممالک کا طویل مدتی بجٹ میں سینکڑوں ارب یورو کمی کا مطالبہ
برسلز: یورپی یونین کے 6 بڑے خالص مالی معاون ممالک نے 2028 سے 2034 کے لیے یورپی کمیشن کے مجوزہ طویل مدتی بجٹ میں سینکڑوں ارب یورو کی کمی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جرمنی، ڈنمارک، نیدرلینڈز، آسٹریا، فن لینڈ اور سویڈن نے مشترکہ طور پر یورپی کمیشن کے تقریباً 2 ٹریلین یورو کے مجوزہ بجٹ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے اور بجٹ کے تمام شعبوں کو کفایت شعاری میں حصہ ڈالنا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق جرمنی اس سے قبل بھی مجوزہ بجٹ میں تقریباً 400 ارب یورو کمی کا مطالبہ کر چکا ہے۔ برلن کا مؤقف ہے کہ موجودہ حجم کا بجٹ قابل برداشت نہیں اور رکن ممالک پر مالی دباؤ مزید بڑھائے گا۔
ان چھ ممالک نے اس کے ساتھ دفاع، مسابقت، ہجرت اور یورپی خودمختاری جیسے مشترکہ ترجیحی شعبوں کے لیے اخراجات بڑھانے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجٹ میں ترجیحات کا ازسرنو تعین کیا جائے، تاہم انہوں نے یورپی یونین کی جانب سے نئے مشترکہ قرضے لینے کی مخالفت کی ہے۔
جرمنی، ڈنمارک، نیدرلینڈز، آسٹریا، فن لینڈ اور سویڈن یورپی یونین کے ان ممالک میں شامل ہیں جو یونین کے بجٹ میں اپنی وصولی سے زیادہ رقم جمع کراتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ ممالک طویل مدتی بجٹ کے حجم اور رقوم کے استعمال پر زیادہ سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔
تمام چھ ممالک نے یورپی یونین کے فنڈز کے اجرا کو قانون کی حکمرانی سے متعلق سخت شرائط سے مشروط رکھنے اور یورپی اداروں کو موجودہ عملے کی تعداد کے اندر رہتے ہوئے انتظامی امور چلانے پر بھی زور دیا ہے۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا رکن ممالک کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ 2026 کے اختتام تک نئے بجٹ پر تمام 27 رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے حاصل کر لیا جائے۔