مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو، انگلینڈ ٹور ختم کرنے کی دھمکی کا علم نہیں، ہیڈ کوچ سرفراز

عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو، انگلینڈ ٹور ختم کرنے کی دھمکی کا علم نہیں، ہیڈ کوچ سرفراز

عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو، انگلینڈ ٹور ختم کرنے کی دھمکی کا علم نہیں، ہیڈ کوچ سرفراز

لندن: پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے کہا ہے کہ انہیں اور پاکستانی کھلاڑیوں کو پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی جانب سے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) کو سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو کی نشریات پر انگلینڈ ٹور ختم کرنے کی مبینہ دھمکی کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز لنچ کے دوران اسکائی اسپورٹس نے عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان کا سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن کے ساتھ انٹرویو نشر کیا۔ عمران خان گزشتہ تین برس سے جیل میں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ سمجھا جاتا ہے کہ PCB نے انٹرویو نشر ہونے کی صورت میں لارڈز ٹیسٹ اور انگلینڈ کے تین میچوں پر مشتمل دورے کے باقی حصے کو منسوخ کرنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ تاہم انٹرویو کا ایک ورژن نشر ہوا اور لنچ کے وقفے کے بعد پاکستانی کھلاڑی دوبارہ میدان میں آ گئے۔

دوسرے روز کے کھیل کے اختتام پر سرفراز احمد نے کہا کہ وہ انٹرویو کے معاملے سے لاعلم ہیں اور ان کی تمام تر توجہ میچ پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو بھی انٹرویو کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔

اس سوال پر کہ کیا پہلے روز لنچ کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کے دوبارہ میدان میں نہ آنے کا کوئی امکان تھا، سرفراز احمد نے کہا کہ سب کچھ معمول کے مطابق تھا اور کھلاڑی اس وقت لنچ کر رہے تھے۔

انٹرویو میں سلیمان اور قاسم خان نے اپنے والد عمران خان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک اور ان کی سکیورٹی پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ برطانوی حکومت کے ردعمل پر بھی تنقید کی۔

انٹرویو نشر ہونے سے قبل اسکائی اسپورٹس کو اسے نشر کرنے کے منصوبے پر شکایت موصول ہوئی تھی۔ صورتحال کے پیش نظر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے برطانوی حکومت کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس سے مشورہ بھی کیا۔

پاکستان میں ٹیسٹ میچ سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی پر اسکائی اسپورٹس کی فراہم کردہ تصاویر کے ذریعے نشر کیا جا رہا ہے، تاہم پی ٹی وی نے عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر نہیں کیا۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں