نائجر نے ایک بھی نیا درخت لگائے بغیر ایک کروڑ 24 لاکھ ایکڑ زمین بحال کرلی، 20 کروڑ درخت دوبارہ اُگ آئے

نائجر نے ایک بھی نیا درخت لگائے بغیر ایک کروڑ 24 لاکھ ایکڑ زمین بحال کرلی، 20 کروڑ درخت دوبارہ اُگ آئے
نیامی: افریقی ملک نائجر نے بڑے پیمانے پر شجرکاری کیے بغیر تقریباً ایک کروڑ 24 لاکھ ایکڑ تباہ حال زمین کو دوبارہ سرسبز بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس غیر معمولی کامیابی کے نتیجے میں اندازاً 20 کروڑ درخت دوبارہ اُگ آئے، جبکہ اس بحال شدہ زمین سے تقریباً 25 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچا۔
دی آپٹمسٹ ڈیلی (The Optimist Daily) کی رپورٹ کے مطابق اس کامیابی کے پیچھے قدرتی طور پر موجود درختوں کے زندہ جڑوں کے نظام کو محفوظ رکھنے اور انہیں دوبارہ نشوونما کا موقع دینے کی حکمت عملی کارفرما ہے۔ کسانوں نے زمین میں موجود درختوں کے کٹے ہوئے تنوں اور زیرِ زمین جڑوں کو ختم کرنے کے بجائے ان سے نکلنے والی نئی شاخوں کو محفوظ رکھا اور مناسب کٹائی کے ذریعے ان کی افزائش کو منظم کیا۔
اس طریقہ کار کو ’’فارمر مینیجڈ نیچرل ری جنریشن‘‘ (FMNR) یعنی کسانوں کے زیرِ انتظام قدرتی دوبارہ افزائش کہا جاتا ہے۔ اس میں نئے پودے لگانے کے بجائے زمین میں پہلے سے موجود درختوں اور جھاڑیوں کے زندہ جڑوں کے نظام کو بحال کیا جاتا ہے۔
آسٹریلوی زرعی ماہر ٹونی ریناؤڈ نے 1980 کی دھائی میں نائجر میں مشاہدہ کیا کہ بظاہر بنجر دکھائی دینے والی زمین کے نیچے درختوں کی جڑیں اب بھی زندہ تھیں۔ مناسب تحفظ اور دیکھ بھال کے ذریعے ان جڑوں سے دوبارہ درخت اگائے جا سکتے تھے، جس کے بعد مقامی کسانوں نے اس طریقہ کار کو بڑے پیمانے پر اپنانا شروع کیا۔
اس سسٹم یعنی ایف ایم این آر کے تحت کسان قدرتی طور پر دوبارہ اُگنے والی شاخوں میں سے مضبوط شاخوں کا انتخاب کرتے، اضافی شاخوں کی کٹائی کرتے اور درختوں کو مویشیوں اور دیگر نقصانات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اس عمل سے زمین کا کٹاؤ کم کرنے، مٹی میں نمی برقرار رکھنے، فصلوں کی پیداوار بہتر بنانے اور کسانوں کو لکڑی اور چارے جیسے قدرتی وسائل فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
نائجر کا تجربہ خشک اور نیم صحرائی علاقوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں روایتی شجرکاری کے ذریعے لگائے گئے پودوں کی بقا اکثر مشکل ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں پہلے سے موجود درختوں کے جڑوں کے نظام کو بحال کرنا کم لاگت اور نسبتاً زیادہ پائیدار طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔
نائجر میں قدرتی طور پر درختوں کی بحالی کی یہ مثال افریقہ میں تباہ حال زمین کی بحالی کی وسیع تر کوششوں کے لیے بھی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق مقامی ماحول اور پہلے سے موجود قدرتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے زمین کی بحالی موسمیاتی تبدیلی، زمین کے کٹاؤ اور خوراک کے تحفظ جیسے چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔