روس نیٹو پر حملہ کر سکتا ہے مگر امید ہے کہ یہ خطرہ مول نہیں لے گا، صدر فن لینڈ

روس نیٹو پر حملہ کر سکتا ہے مگر امید ہے کہ یہ خطرہ مول نہیں لے گا، صدر فن لینڈ
برلن: فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ روس نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملہ کرنے کا خطرہ مول لے گا، کیونکہ دنیا کے طاقتور ترین فوجی اتحاد کے عزم کو آزمانا ماسکو کے لیے کوئی منطقی فیصلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے نیٹو کے خلاف براہ راست جنگ شروع کرنے کے امکان کی حمایت میں فی الحال کوئی ٹھوس شواہد یا حقائق موجود نہیں۔
صدر الیگزینڈر اسٹب نے جرمن اخبار ’بلڈ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بعض مغربی حکام کی جانب سے روس کے ممکنہ مستقبل کے حملے کے بارے میں دی جانے والی پیش گوئیوں کے باوجود انہیں ایسا کوئی ثبوت نظر نہیں آتا جس سے یہ ثابت ہو کہ ماسکو نیٹو سے جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کے لیے دنیا کے سب سے طاقتور فوجی اتحاد کے عزم کو آزمانا بے معنی ہوگا۔
اسٹب نے کہا کہ نیٹو کے پاس روایتی ہتھیاروں، میزائلوں اور جوہری صلاحیت سمیت اتنی مضبوط عسکری طاقت موجود ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے اس اتحاد کے خلاف براہ راست جنگ کا فیصلہ انتہائی خطرناک ہوگا۔ ان کے مطابق ان کا تجزیہ صرف سیاسی اندازے پر مبنی نہیں بلکہ انٹیلی جنس معلومات بھی اس مؤقف کی پشت پناہی کرتی ہیں۔
تاہم فن لینڈ کے صدر نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیٹو کو روسی خطرے کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کو ہر ممکن صورت حال کے لیے تیار رہنا ہوگا اور دفاعی صلاحیت برقرار رکھنا ضروری ہے۔ نیٹو بھی روس کو یورپی اور بحر اوقیانوس کے خطے کی سلامتی کے لیے سب سے اہم اور براہ راست خطرہ قرار دے چکا ہے اور اس نے اپنی دفاعی تیاریوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
اسٹب کے مطابق روس اس وقت یوکرین میں جنگ کے باعث بھاری فوجی نقصانات برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ روس کو ہر ماہ تقریباً 30 ہزار سے 35 ہزار فوجیوں کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں تقریباً 27 ہزار اہلکار بھرتی کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول اس صورت حال میں روس کے لیے بیک وقت یوکرین اور نیٹو کے خلاف دو بڑے محاذوں پر جنگ چھیڑنے کے لیے مطلوبہ اضافی فوجی قوت پیدا کرنا مشکل ہوگا۔
فن لینڈ کے صدر نے روس کی جانب سے یورپ میں خوف اور بے یقینی پیدا کرنے کے لیے اطلاعاتی جنگ کے استعمال کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق روسی معلوماتی مہمات کا مقصد یورپی معاشروں میں یہ تاثر پیدا کرنا بھی ہو سکتا ہے کہ روس کسی بھی وقت نیٹو پر حملہ کر سکتا ہے، جس سے اتحادی ممالک میں سیاسی دباؤ اور اختلافات پیدا ہوں۔
دوسری جانب جرمنی کے اعلیٰ فوجی حکام روس کی مستقبل کی فوجی صلاحیت کے بارے میں زیادہ محتاط اور تشویشناک جائزہ پیش کر رہے ہیں۔ جرمن مسلح افواج کے سربراہ جنرل کارستن بریور نے رواں سال کہا تھا کہ مختلف اشارے، جن میں روس کی عسکری تیاری، فوجیوں کی تعداد میں اضافہ اور معاشی و سیاسی عوامل شامل ہیں، اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ روس 2029 تک نیٹو کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ایسا حملہ لازماً ہوگا۔
جرمن فوج کے سرکاری جائزے میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ 2029 کا حوالہ روسی حملے کی یقینی تاریخ نہیں بلکہ اس امکان سے متعلق ہے کہ ماسکو اس وقت تک بڑے پیمانے پر حملے کے لیے درکار فوجی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ جرمنی اسی لیے اپنی افواج، فضائی دفاع، ڈرونز، طویل فاصلے تک درست نشانہ لگانے کی صلاحیت اور دیگر دفاعی شعبوں کو تیزی سے مضبوط کر رہا ہے۔
نیٹو بھی روس کے حوالے سے مختلف منظرناموں کی تیاری کر رہا ہے۔ اتحاد کے مطابق روس نہ صرف اپنی فوجی صلاحیت دوبارہ بڑھا رہا ہے بلکہ نیٹو ممالک کے خلاف سائبر حملوں، اہم تنصیبات میں تخریب کاری، سرحدی اشتعال انگیزی، غلط معلومات، الیکٹرانک مداخلت اور دیگر ہائبرڈ سرگرمیوں میں بھی ملوث ہے۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں براہ راست فوجی جنگ سے کم درجے کی کارروائیوں کے باوجود اتحادی ممالک کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔
فن لینڈ کی پوزیشن اس معاملے میں خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ روس کے ساتھ طویل سرحد رکھنے والا یہ ملک 2023 میں نیٹو کا رکن بنا تھا۔ روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد فن لینڈ نے کئی دہائیوں پر محیط فوجی غیر جانب داری کی پالیسی ترک کرتے ہوئے نیٹو میں شمولیت اختیار کی۔
صدر اسٹب نے حالیہ دنوں میں بھی فن لینڈ کی سلامتی کے لیے نیٹو کو بنیادی ستون قرار دیا ہے۔ 25 اگست کو ہیلسنکی میں سفارتی مشنوں کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ فن لینڈ اب اپنے دفاع کو اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر تشکیل دے رہا ہے اور نیٹو کی دفاعی حکمت عملی روایتی فوج، میزائل دفاع، جوہری صلاحیت، خلائی اور سائبر صلاحیتوں پر مشتمل ہے۔
فن لینڈ اپنی دفاعی تیاریوں میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ فن لینڈ کی حکومت کے مطابق ملک 2026 میں نیٹو کے دفاع اور سلامتی سے متعلق اخراجات کے ہدف سے تجاوز کرے گا، جبکہ حکومت نے مجموعی دفاعی تیاری اور قومی مزاحمت کو اپنی سلامتی کی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔
نیٹو کے ارکان بھی روسی خطرے کے پیش نظر دفاعی اخراجات بڑھا رہے ہیں۔ اتحاد نے 2025 میں طے کیا تھا کہ رکن ممالک 2035 تک اپنی مجموعی قومی پیداوار کا 5 فیصد دفاع اور متعلقہ سلامتی کے شعبوں پر خرچ کرنے کی جانب بڑھیں گے، جس میں کم از کم 3.5 فیصد بنیادی دفاعی ضروریات کے لیے مختص کیا جائے گا۔ نیٹو کے مطابق یورپی اتحادیوں اور کینیڈا کے دفاعی اخراجات 2025 میں حقیقی بنیادوں پر گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد بڑھے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 27 اگست کو کہا تھا کہ انہیں روس کی جانب سے نیٹو کی سرزمین پر حملے کا خدشہ نہیں ہے۔ تاہم اسی معاملے سے متعلق امریکی اور یورپی انٹیلی جنس ادارے روس کی ممکنہ خفیہ کارروائیوں اور نیٹو اتحاد کو کمزور کرنے کی کوششوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اسٹب نے روس کے ممکنہ حملے کے خطرے کو کم قرار دینے کے باوجود یوکرین کے لیے یورپی حمایت جاری رکھنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق یوکرین کی مضبوط پوزیشن ہی یورپ کے لیے روسی جارحیت کے خلاف سب سے اہم حفاظتی ضمانت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یوکرین کمزور پڑتا ہے تو یورپ کی سلامتی بھی متاثر ہوگی۔
فن لینڈ کے صدر کا یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپ میں روس کے ساتھ مستقبل کے ممکنہ تصادم پر بحث تیز ہو رہی ہے۔ ایک طرف جرمنی سمیت بعض یورپی دفاعی حکام روس کی طویل مدتی فوجی استعداد میں اضافے کو سنجیدہ خطرہ سمجھتے ہوئے 2029 کے آس پاس کے عرصے کے لیے دفاعی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسٹب اور ٹرمپ جیسے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ روس کے لیے نیٹو پر براہ راست حملہ کرنا اس کی اپنی سلامتی اور فوجی مفادات کے خلاف ہوگا۔
اس صورت حال سے مجموعی طور پر یہ تاثر ملتا ہے کہ مغربی ممالک کے درمیان اختلاف زیادہ تر روسی حملے کے امکان کی شدت اور وقت کے تعین پر ہے، نہ کہ نیٹو کی دفاعی تیاری کی ضرورت پر۔ نیٹو مسلسل اپنی مشرقی سرحدوں پر دفاعی صلاحیت بڑھا رہا ہے، جبکہ فن لینڈ جیسے روس سے متصل ممالک روسی فوجی سرگرمیوں اور ہائبرڈ خطرات پر خصوصی نظر رکھے ہوئے ہیں۔