بشکیک میں ایس سی او سربراہ اجلاس پیر کو، پوتن، شی جن پنگ، ایرانی صدر اور وزیراعظم شہباز کی شرکت متوقع

بشکیک میں ایس سی او سربراہ اجلاس پیر کو، پوتن، شی جن پنگ، ایرانی صدر اور وزیراعظم شہباز کی شرکت متوقع
بشکیک: روسی صدر ولادیمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان پیر کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شروع ہونے والے دو روزہ سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والے اجلاس میں تقریباً ایک درجن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔ تنظیم میں روس، چین، پاکستان، بھارت، ایران، وسطی ایشیا کے چار ممالک اور روس کا اتحادی بیلاروس شامل ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، روسی صدر ولادیمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کرغزستان کے صدر صدر صادیر ژاپاروف کی زیر صدارت مرکزی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ روسی صدر پوتن کی چینی صدر شی جن پنگ، ایرانی صدر پزشکیان اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ الگ الگ دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یوکرین جنگ کے دوران روس اور ایران کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعاون میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس اور چین کو ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے خبردار کر چکے ہیں۔
ایس سی او سربراہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تنظیم کے بعض رکن ممالک یوکرین اور ایران سے متعلق تنازعات سمیت مختلف علاقائی بحرانوں اور تجارتی کشیدگی کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکا کی جانب سے چینی اور بھارتی مصنوعات پر عائد کیے جانے والے محصولات نے بھی عالمی تجارت کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران شنگھائی تعاون تنظیم سمیت علاقائی اتحادوں میں اپنی شمولیت کو مغربی پابندیوں کے اثرات کم کرنے اور اقتصادی و سفارتی روابط بڑھانے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھتا ہے۔ تاہم مختلف بحرانوں کے دوران ایسے اتحادوں کی عملی افادیت اور رکن ممالک کو حاصل ہونے والے ٹھوس فوائد پر سوالات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم بنیادی طور پر اقتصادی، سیاسی اور علاقائی تعاون کے لیے قائم کی گئی تھی، تاہم حالیہ برسوں میں روس اور چین کی قیادت میں اس کے علاقائی کردار میں اضافہ ہوا ہے۔ تنظیم کے بانی اعلامیے کے مطابق ایس سی او کسی دوسرے ملک یا گروپ کے خلاف قائم اتحاد نہیں ہے۔
ایس سی او کے مطابق تنظیم کے رکن ممالک دنیا کی تقریباً 40 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ عالمی مجموعی پیداوار میں ان کا حصہ تقریباً 25 فیصد ہے۔ تاہم رکن ممالک کے سیاسی، اقتصادی اور تزویراتی مفادات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔