مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی سٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگا

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی سٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگا

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی سٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگا

استنبول، 30 اگست: ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم تزویراتی، سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس کل 31 اگست کو استنبول میں ہوگا، جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ و دفاع اور اعلیٰ عسکری قیادت شرکت کرے گی۔

اجلاس میں مشترکہ دفاع، دفاعی صنعت، دہشت گردی کے خلاف تعاون، تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان عملی تعاون کے فروغ اور عالمی و علاقائی سلامتی کی صورتحال سمیت اہم امور پر غور کیا جائے گا۔

ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان، وزیر دفاع یاشار گیولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوق بائراکتار اولو شرکت کریں گے۔ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کریں گے، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، وزیر دفاع خالد بن سلمان اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی کی شرکت متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں عالمی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔ تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون، مشترکہ مشقوں اور مختلف شعبوں میں عملی ہم آہنگی بڑھانے کے امکانات بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔

دفاعی صنعت میں تعاون کو وسعت دینا بھی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں مشترکہ دفاعی پیداوار، تحقیق و ترقی اور دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے کے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تینوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانے اور اس شعبے میں تعاون کے نئے امکانات پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

کمیٹی کے تحت طے کیے جانے والے مشترکہ منصوبوں اور سرگرمیوں کو عملی شکل دینے کے لیے سیکریٹریٹ اور دیگر متعلقہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے خدوخال بھی وضع کیے جائیں گے، جبکہ فریقین مستقبل کے اقدامات کے لیے ایک جامع روڈ میپ مرتب کرنے پر غور کریں گے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے ذریعے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے تعاون کے نئے فریم ورک کے طور پر آگے بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ معاہدے میں بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنے اور امن و استحکام کو ترجیح دینے والے دیگر ممالک کے لیے مستقبل میں تعاون کے امکانات بھی رکھے گئے ہیں۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے کا بنیادی مقصد خطے اور عالمی سطح پر امن، سلامتی، استحکام اور خوش حالی کو فروغ دینا اور تینوں ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیت و بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کی اہم شق کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والا حملہ تمام فریقین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

استنبول میں ہونے والا کمیٹی کا پہلا اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو عملی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، جس کے ذریعے ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی، دفاعی اور تزویراتی تعاون کے لیے مستقل ادارہ جاتی ڈھانچے اور آئندہ کے لائحہ عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں