مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ریفرنڈم: آئس لینڈ میں یورپی یونین رکنیت کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز مسترد

ریفرنڈم: آئس لینڈ میں یورپی یونین رکنیت کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز مسترد

ریفرنڈم: آئس لینڈ میں یورپی یونین رکنیت کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز مسترد

ریکیاوک، 30 اگست: آئس لینڈ کے عوام نے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے معطل مذاکرات بحال کرنے کی حکومتی تجویز مسترد کردی۔ 29 اگست کو ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 52.8 فیصد ووٹرز نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے خلاف ووٹ دیا جبکہ 47.2 فیصد نے اس کی حمایت کی۔ ریفرنڈم میں ووٹر ٹرن آؤٹ 82.5 فیصد رہا۔

ریفرنڈم میں عوام سے براہِ راست یہ نہیں پوچھا گیا تھا کہ آئس لینڈ یورپی یونین کا رکن بنے یا نہیں، بلکہ سوال یہ تھا کہ آیا یورپی یونین کی رکنیت کے لیے معطل مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں۔ چنانچہ ’نہیں‘ کے ووٹ کا مطلب فی الحال الحاق مذاکرات کی بحالی کو مسترد کرنا ہے، جبکہ یورپی یونین کی مکمل رکنیت کا امکان مستقل طور پر ختم نہیں ہوا۔

ریفرنڈم کا نتیجہ معمولی فرق سے سامنے آیا، جس نے آئس لینڈ کے معاشرے میں یورپی یونین کی رکنیت کے معاملے پر موجود گہری تقسیم کو نمایاں کردیا۔ دارالحکومت ریکیاوک میں مذاکرات کی بحالی کے حق میں زیادہ حمایت دیکھی گئی، جبکہ ملک کے دیگر علاقوں، بالخصوص دیہی اور مضافاتی علاقوں میں مخالفت غالب رہی۔

آئس لینڈ نے 2009 میں عالمی مالیاتی بحران کے بعد یورپی یونین کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی اور اس کے بعد الحاق مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھا، تاہم یہ عمل بعد میں معطل ہوگیا۔ 2013 کے بعد مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے اور یورپی یونین میں شمولیت کا معاملہ طویل عرصے تک ملکی سیاست میں متنازع موضوع بنا رہا۔

تازہ ریفرنڈم کی مہم کے دوران قومی خودمختاری، ماہی گیری اور قدرتی وسائل پر ملکی اختیار اہم ترین موضوعات رہے۔ یورپی یونین کے مخالفین، خصوصاً ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ حلقوں نے خدشات کا اظہار کیا کہ یورپی یونین کی مشترکہ پالیسیوں سے آئس لینڈ کے سمندری وسائل اور ماہی گیری کے کوٹے پر موجود قومی کنٹرول متاثر ہوسکتا ہے۔

مخالفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئس لینڈ پہلے ہی یورپی یونین کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات رکھتا ہے۔ ملک یورپی اکنامک ایریا (EEA) اور شینگن زون کا حصہ ہے، جس کے باعث اسے یورپی سنگل مارکیٹ اور آزادانہ نقل و حرکت سمیت متعدد فوائد حاصل ہیں۔ ان کے مطابق مکمل رکنیت کے بغیر بھی یورپ کے ساتھ موجودہ اقتصادی روابط برقرار رکھے جاسکتے ہیں۔

دوسری جانب یورپی یونین کے حامیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے آئس لینڈ کو رکنیت کی ممکنہ شرائط پر بات چیت کا موقع ملتا۔ ان کے مطابق یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات اقتصادی استحکام، یورپی منڈی تک رسائی اور عالمی و جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں تعاون کو مزید مضبوط کرسکتے ہیں۔

حامی حلقوں نے عالمی تجارتی کشیدگی اور آرکٹک خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کو بھی یورپی تعاون کے حق میں اہم عوامل قرار دیا۔ اقتصادی استحکام، مہنگائی اور ملکی کرنسی سے متعلق مسائل بھی ریفرنڈم مہم میں زیر بحث رہے، جبکہ بعض حامیوں نے مستقبل میں یورو اپنانے کو ممکنہ معاشی فائدہ قرار دیا۔

وزیراعظم کرسٹرون فروستادوتیر کی حکومت مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی حامی تھی، اس لیے ریفرنڈم میں حکومتی مؤقف کی ناکامی کو حکومت کے لیے سیاسی دھچکا بھی قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم حکومت نے عوام کے فیصلے کا احترام کرنے اور ملک میں اتحاد برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔

ریفرنڈم کا نتیجہ یورپی یونین کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ آئس لینڈ پہلے ہی یورپی اداروں اور اقتصادی نظام کے ساتھ گہرے روابط رکھتا ہے۔ تاہم مذاکرات کی بحالی بھی یورپی یونین کی فوری رکنیت کی ضمانت نہیں بنتی۔ اس کے لیے طویل مذاکرات، مختلف شعبوں میں شرائط پر اتفاق اور رکنیت کے معاہدے کی منظوری سمیت متعدد مراحل مکمل کرنا ہوتے ہیں۔

ریفرنڈم کے بعد موجودہ حکومت کے دور میں یورپی یونین کی رکنیت کے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات محدود ہوگئے ہیں، تاہم 47.2 فیصد ووٹرز کی جانب سے مذاکرات کی حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آئس لینڈ میں یورپی یونین سے تعلقات کا معاملہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

یوں 29 اگست کا ریفرنڈم آئس لینڈ کی یورپی یونین میں فوری شمولیت کا فیصلہ نہیں بلکہ رکنیت کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے سوال پر عوامی رائے کا اظہار تھا۔ معمولی اکثریت نے مذاکرات کی بحالی مسترد کردی، تاہم مستقبل میں سیاسی حالات تبدیل ہونے کی صورت میں یورپی یونین کی رکنیت کا معاملہ دوبارہ قومی بحث کا حصہ بن سکتا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں