مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

او آئی سی کانفرنس خواتین کو بااختیار بنانے کا عزم ہے، اعظم نذیر تارڑ

او آئی سی کانفرنس خواتین کو بااختیار بنانے کا عزم ہے، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خواتین کے حوالے سے منعقدہ نویں او آئی سی وزراء کانفرنس خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے اجتماعی عزم کی عکاس ہے۔ پیر کو اسلام آباد میں نویں او آئی سی وزراء خواتین کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اہم ترین فورم کی میزبانی کرنا پاکستان کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔

خواتین کی سماجی اور اقتصادی خودمختاری

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ کانفرنس میں او آئی سی کے رکن ممالک، مبصر ممالک اور مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 125 معزز مندوبین نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ مندوبین کی بھرپور شرکت اور قیمتی آراء نے نہ صرف مذاکرات کو وسعت دی بلکہ مسلم دنیا میں اسلامی دنیا میں جامع ترقی کیلئے خواتین کا بااختیار ہونا ضروری ہے کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کو بھی اجاگر کیا۔

اسلام آباد اعلامیہ اور پالیسی سازی

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد نے بامقصد گفتگو، باہمی سیکھنے کے عمل اور اجتماعی اقدام کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس نے پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کو مرکزی اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس کانفرنس کے دوران او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس، اسلام آباد اعلامیہ منظور کر لیا گیا ہے جو مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے انتہائی اہم ہے۔

خواتین کی شمولیت اور مستقبل کا لائحہ عمل

وفاقی وزیر نے پوری کانفرنس کے دوران خواتین کی مضبوط شرکت اور قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مہارت اور لگن نے مشاورت کو تقویت بخشی ہے، اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پبلک لائف میں خواتین کی شمولیت کو مزید بڑھایا جائے۔ اس موقع پر او آئی سی وزارتی کانفرنس مسلم ممالک میں تعاون کا پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر وزارت انسانی حقوق، وزارت اطلاعات و نشریات، اور وزارت خارجہ کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایونٹ مینجمنٹ ٹیم کی جانب سے گزشتہ کئی ہفتوں کی سخت محنت اور لگن کی بھی تعریف کی۔ مزید برآں وفاقی وزیر نے او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ، ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، ویمن کنسلٹیٹو کونسل، پارٹنر تنظیموں، ماہرین اور تمام شریک وفود کا ان کے تعمیری کردار اور گراں قدر تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں