مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

اسلام آباد میں 27 رکنی اسمبلی، ملک میں 15 نئے صوبے، احسن اقبال نے تجاویز پیش کردیں

اسلام آباد میں 27 رکنی اسمبلی، ملک میں 15 نئے صوبے، احسن اقبال نے تجاویز پیش کردیں

اسلام آباد میں 27 رکنی اسمبلی، ملک میں 15 نئے صوبے، احسن اقبال نے تجاویز پیش کردیں

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے اسلام آباد کے لیے نئے گورننس ماڈل کے تحت 27 رکنی اسمبلی تشکیل دینے اور ملک میں انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے صوبوں کی تعداد 15 سے 18 تک بڑھانے کی تجاویز پیش کردی ہیں۔

اسلام آباد میں صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اسلام آباد کے نئے انتظامی ماڈل سے متعلق تمام تجاویز تیار کرلی گئی ہیں اور وزیراعظم کی ہدایت پر اس معاملے میں مختلف طبقات سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد کے مسائل اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیے شہریوں کے پاس کوئی مؤثر نمائندہ فورم موجود نہیں، جس کے باعث وفاقی حکومت کو دارالحکومت کے بیشتر معاملات براہ راست دیکھنا پڑتے ہیں۔ مشاورتی عمل مکمل ہونے کے بعد سفارشات وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔

مجوزہ گورننس ماڈل کے تحت اسلام آباد میں 27 رکنی اسمبلی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں 21 ارکان براہ راست منتخب ہوں گے، جبکہ خواتین کے لیے 5 مخصوص اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مختص ہوگی۔

تجویز کے مطابق اسلام آباد کے بیشتر انتظامی امور منتخب نمائندوں کے ذریعے چلائے جائیں گے، تاہم امن و امان اور ماسٹر پلاننگ جیسے اہم شعبے وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں رہیں گے۔ اسلام آباد میں 27 انتظامی محکمے قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

مجوزہ نظام میں اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی موجودہ 3 نشستیں برقرار رکھنے اور ہر قومی اسمبلی کے حلقے کے تحت مقامی حکومت کی 7 نشستیں قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

احسن اقبال نے ملک میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی موجودہ انتظامی ساخت بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کے مقابلے میں مؤثر نہیں رہی۔ ان کے مطابق ملک میں یا تو بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام مؤثر بنایا جائے یا انتظامی یونٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔

وفاقی وزیر کے مطابق ملک میں 15 سے 18 صوبے یا نئے انتظامی یونٹس قائم کرنا انتظامی امور کو بہتر انداز میں چلانے کا ایک ممکنہ راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوئے، تاہم صوبوں سے ضلعی سطح تک اختیارات کی منتقلی مطلوبہ انداز میں نہیں ہوسکی۔

احسن اقبال نے کہا کہ اگر بااختیار ضلعی حکومتوں کا نظام مؤثر طریقے سے نافذ ہوجائے تو نئے صوبوں کی ضرورت کم ہوسکتی ہے، تاہم موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے حالیہ پمز حادثے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات بھی اسلام آباد میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

اسلام آباد کے نئے گورننس ماڈل اور نئے صوبوں سے متعلق تجاویز فی الحال مشاورتی اور ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ مشاورت مکمل ہونے کے بعد سفارشات وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی، جبکہ کسی بھی آئینی یا انتظامی تبدیلی کے لیے متعلقہ قانونی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں