مہنگائی کی نئی لہر حکومتی ٹیکس پالیسیوں کا نتیجہ ہے، اجمل بلوچ، خالد چوہدری

مہنگائی کی نئی لہر حکومتی ٹیکس پالیسیوں کا نتیجہ ہے، اجمل بلوچ، خالد چوہدری
اسلام آباد: آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے سیکرٹری و چیئرمین ٹریڈرز اینڈ مارکیٹ کمیٹی آئی سی سی آئی خالد چوہدری نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی، خطے کی غیر یقینی صورتحال اور حکومتی ٹیکس پالیسیوں کے باعث ملک میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کے براہِ راست اثرات ٹرانسپورٹ، صنعت، تجارت اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں، جبکہ مہنگے پٹرول اور بجلی نے کاروباری لاگت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
اجمل بلوچ اور خالد چوہدری نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں پٹرولیم لیوی اور دیگر حکومتی محصولات کا بڑا حصہ شامل ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا تمام بوجھ عوام اور کاروباری طبقے پر منتقل کرنے کے بجائے حکومت کو اپنے ٹیکسوں اور لیوی میں فوری کمی کرنی چاہیے۔
تاجر رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان ایران کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد موجود ہے۔ حکومت کو قومی مفاد، بین الاقوامی قوانین اور پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران سمیت خطے کے دیگر ممالک سے نسبتاً سستی توانائی کے حصول کے تمام قابلِ عمل راستوں کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ ملک کو مہنگی توانائی کے بحران سے نکالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ عام آدمی کے لیے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی خریداری مشکل ہوتی جا رہی ہے، پھل اور دیگر غذائی اشیاء غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تجارت میں رکاوٹیں بھی اشیائے ضروریہ کی رسد اور قیمتوں پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔ حکومت صرف انتظامیہ کے ذریعے چھاپے مارنے اور دکانداروں کو جرمانے کرنے سے مہنگائی پر قابو نہیں پا سکتی۔ جب پٹرول، بجلی، ٹرانسپورٹ اور کاروباری اخراجات مسلسل بڑھیں گے تو اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔
تاجر رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر مہنگائی اور سپلائی چین کی موجودہ صورتحال پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو آٹا، چینی اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور دستیابی کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور دیگر ٹیکسوں میں فوری اور نمایاں کمی کی جائے، بجلی کے نرخ کم کیے جائیں، سرحدی تجارت میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور مہنگائی کے بنیادی اسباب کے خاتمے کے لیے جامع معاشی پالیسی اختیار کی جائے تاکہ عوام اور کاروباری طبقے کو حقیقی ریلیف مل سکے
۔