وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، قرضوں کی تعداد 109 فیصد اضافے کے ساتھ 52600 سے بڑھ گئی

وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، قرضوں کی تعداد 109 فیصد اضافے کے ساتھ 52600 سے بڑھ گئی
اسلام آباد: وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت قرضوں کی تعداد 109 فیصد اضافے کے ساتھ 52600 سے بڑھ گئی۔ ملک میں کم آمدنی والے طبقے کو چھت کی فراہمی اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام تیزی سے کامیابی کی منازل طے کر رہا ہے، یہ اب ایک خاندان کے لیے چھت، کاروبار کے لیے منافع، مزدور کے لیے روزگار اور مجموعی طور پر پاکستان کی پائیدار اور جامع معاشی ترقی کا ضامن بن چکا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر ایک بیان میں وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا کہ جون 2026ء کے بعد سے اس سکیم کے تحت ہائوسنگ فنانسنگ کی فراہمی ختم اور تعمیراتی شعبے میں تاریخی پیش رفت دیکھنے میں آئی جس نے ملک کے اقتصادی منظر نامے کو نیا رخ دیا ،صرف دو ماہ کے مختصر عرصے میں پروگرام کے تحت قرضوں کی منظوری اور رقم کی ادائیگیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ سکیم کے تحت منظور کیے جانے والے قرضوں کی تعداد 109 فیصد اضافے کے ساتھ 52600 سے تجاوز کر چکی ، منظور شدہ فنانسنگ کی مجموعی رقم 116 فیصد کے زبردست اضافے کے بعد 312 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب تک 8,600 سے زائد خاندانوں کو قرضے جاری کیے جا چکے ہیں ،عملی طور پر ہائوسنگ سیکٹر میں منتقل ہونے والی رقم 118 فیصد اضافے کے ساتھ 45 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے جو براہ راست تعمیراتی کاموں میں استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس پروگرام کے اثرات صرف ذاتی گھر کی حد تک محدود نہیں بلکہ ہائوسنگ فنانسنگ میں یہ تیزی پاکستان کی مجموعی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو رہی ہے، آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی سے ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں کو زبردست فروغ مل رہا ہے جس کی وجہ سے سیمنٹ، سٹیل اور دیگر عمارتی سامان کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تعمیراتی شعبے کی اس لہر نے ملک کی چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو متحرک کر دیا ہے جس سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیاں پروان چڑھ رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومتی اصلاحات اور بینکنگ کے آسان طریقہ کار کے باعث عام شہری کے لیے فنانسنگ تک رسائی ممکن بنائی گئی ہے، یہ پروگرام اب ایک خاندان کے لیے چھت، کاروباروں کے لیے منافع، مزدوروں کے لیے روزگار اور مجموعی طور پر پاکستان کی پائیدار اور جامع معاشی ترقی کا ضامن بن چکا ہے۔