مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

مشرق وسطٰی ممالک اپنے فیصلے خود، بیرونی مداخلت مسترد اور نیا علاقائی سکیورٹی نظام تشکیل دیں، چینی صدر

مشرق وسطٰی ممالک اپنے فیصلے خود، بیرونی مداخلت مسترد اور نیا علاقائی سکیورٹی نظام تشکیل دیں، چینی صدر (تصویر 1)

مشرق وسطٰی ممالک اپنے فیصلے خود، بیرونی مداخلت مسترد اور نیا علاقائی سکیورٹی نظام تشکیل دیں، چینی صدر

قاہرہ، 3 ستمبر: چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اپنے خطے کے معاملات اور مستقبل کے بارے میں فیصلے خود کرنے چاہئیں، بیرونی مداخلت کی مخالفت کرنی چاہیے اور مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے لیے نیا علاقائی سکیورٹی نظام تشکیل دینا چاہیے۔

چینی صدر نے یہ بات قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ملاقات اور تفصیلی مذاکرات کے دوران کہی، جن میں دوطرفہ تعلقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، فلسطین کے مسئلے اور عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شی جن پنگ نے کہا کہ خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے جائز سکیورٹی خدشات کا احترام کرنا چاہیے اور اختلافات و تنازعات کو بات چیت اور مشاورت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں سلامتی کسی ایک ملک کی سلامتی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ تمام ممالک کی مشترکہ سلامتی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔

مشرق وسطٰی ممالک اپنے فیصلے خود، بیرونی مداخلت مسترد اور نیا علاقائی سکیورٹی نظام تشکیل دیں، چینی صدر (تصویر 2)

انہوں نے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے اور خطے میں ایک ایسے نئے سکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل کی حمایت کرتا ہے جو مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے اصولوں پر استوار ہو۔

چینی صدر نے فلسطین کے مسئلے کو مشرق وسطیٰ کے تنازع کا مرکزی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ چین فلسطینی مسئلے کے منصفانہ اور جامع سیاسی حل، فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔

شی جن پنگ نے مصر کے علاقائی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مصر مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ اور فلسطینی مسئلے کے حل کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چین مصر کے ساتھ علاقائی اور عالمی امور پر اسٹریٹجک رابطہ مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔

دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے چینی صدر نے کہا کہ چین اور مصر کو باہمی سیاسی اعتماد مزید مضبوط، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور ترقیاتی راستوں کی حمایت اور عملی تعاون کو وسعت دینا چاہیے۔

مشرق وسطٰی ممالک اپنے فیصلے خود، بیرونی مداخلت مسترد اور نیا علاقائی سکیورٹی نظام تشکیل دیں، چینی صدر (تصویر 3)

انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے تحت جاری منصوبوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، سائنس و ٹیکنالوجی، سبز توانائی، زراعت، صنعت، ٹرانسپورٹ اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور مصر کو یکطرفہ پسندی اور تحفظ پسندی کے مقابلے میں کثیرالجہتی نظام کی حمایت اور عالمی نظم و نسق کو زیادہ منصفانہ بنانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، جبکہ ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے بھی تعاون بڑھایا جائے۔

مذاکرات کے دوران دونوں رہنماؤں نے چین اور مصر کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، ڈیجیٹل معیشت، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں تعاون کی متعدد دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے چین کے ساتھ تعلقات کو مصر کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، بنیادی ڈھانچے، توانائی، ٹیکنالوجی، دفاع اور سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

چین اور مصر رواں سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جبکہ صدر شی جن پنگ کا موجودہ دورہ تقریباً ایک دہائی بعد مصر کا پہلا دورہ ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں