یورپی یونین ایران مخالف نئی پابندیوں کی مہم میں شامل امریکہ کا اعلان، یورپی یونین کا مؤقف مختلف

یورپی یونین ایران مخالف نئی پابندیوں کی مہم میں شامل امریکہ کا اعلان، یورپی یونین کا مؤقف مختلف
واشنگٹن، 4 ستمبر: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی یونین ایران کے خلاف امریکی اقتصادی دباؤ کی نئی مہم ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ میں باضابطہ طور پر شامل ہوگئی ہے، تاہم یورپی یونین کے اپنے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ برسلز نے امریکی اقدام کی حمایت کی ہے، لیکن مہم میں باضابطہ شمولیت کا اعلان نہیں کیا۔
یورونیوز کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے جمعہ کو کہا کہ یورپی یونین نے ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کی امریکی کوشش میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کے ابتدائی مؤقف کا خیرمقدم بھی کیا۔
تاہم 31 اگست کو جی 20 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان کے اجلاس کے موقع پر جاری یورپی یونین کے بیان میں امریکی اقدام کی حمایت ضرور کی گئی، لیکن نئی پابندیوں، امریکی پابندیوں کے ساتھ باضابطہ ہم آہنگی یا ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ میں شمولیت کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
یورپی یونین نے کہا کہ اسے ایران کی جوہری اور بیلسٹک میزائل سرگرمیوں، خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں، روس کو فوجی معاونت اور ایرانی عوام کے خلاف مبینہ جبر پر تشویش ہے۔ برسلز نے مزید کہا کہ وہ ایران پر مزید اقتصادی دباؤ سمیت ضروری اقدامات کے لیے تیار ہے اور امریکا سمیت جی 7 شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
ساتھ ہی یورپی یونین نے ایران کے معاملے کے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ یہ مؤقف واشنگٹن کی جانب سے ایران پر سخت اقتصادی دباؤ بڑھانے کی پالیسی سے ایک اہم پہلو میں مختلف ہے۔
امریکی ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کا مقصد ایران کی ڈیجیٹل اثاثوں، جدید ٹیکنالوجی، سونے، تجارتی ہوا بازی اور بحری شعبوں تک رسائی محدود کرنا ہے۔ امریکی پابندیوں کے دائرے میں ان غیر ملکی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو بھی لایا جا سکتا ہے جو ایران کے ساتھ کاروباری روابط برقرار رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ اس مہم کے ابتدائی مرحلے میں تقریباً 60 کمپنیوں، افراد اور بحری جہازوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرچکا ہے۔
یورونیوز کے مطابق اگر یورپی یونین باضابطہ طور پر امریکی مہم میں شامل ہوتی ہے تو یورپی کمپنیوں کے لیے ایران کے ساتھ تجارت مزید محدود ہوسکتی ہے۔ تاہم فی الحال برسلز نے ایسا کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا۔ یورپی یونین میں اس نوعیت کے اہم خارجہ پالیسی اور پابندیوں کے فیصلوں کے لیے رکن ممالک کی متفقہ منظوری درکار ہوتی ہے۔