عرب ملک الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان

عرب ملک الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان
الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کردیا، الجزائر کا کہنا ہے کہ دوطرفہ تعلقات کو بچانے کے لیے تمام سفارتی اور باہمی ذرائع اور راستے استعمال کرنے کے باوجود اب مزید گنجائش باقی نہیں رہی۔
الجزائر کی وزارت خارجہ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اقدامات ایک ایسے مرحلے تک پہنچ چکے تھے جنہیں الجزائر کے لیے ناقابل قبول اور ناقابل برداشت سمجھا گیا، جس کے بعد ابوظبی کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ الجزائر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کیے جا چکے ہیں اور دوطرفہ تعلقات کے تحفظ کی تمام کوششیں ختم ہوچکی ہیں۔
الجزائر کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا اور انہیں سفارتی تعلقات ختم کرنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا۔ الجزائر نے اماراتی سفیر کو 48 گھنٹے کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان کئی برس سے جاری بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق الجزائر نے اپنے فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے بعض اقدامات کو ’’اشتعال انگیز یا مخالفانہ‘‘ قرار دیا ہے، تاہم الجزائر کی وزارت خارجہ نے کسی ایک مخصوص واقعے یا اقدام کو تعلقات ختم کرنے کی براہ راست وجہ قرار نہیں دیا۔
دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ چند برس کے دوران متعدد علاقائی اور جغرافیائی سیاسی معاملات پر اختلافات میں اضافہ ہوا تھا۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر بھی الجزائر اور متحدہ عرب امارات کا موقف مختلف ہے۔ الجزائر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرتا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
مغربی صحارا کا تنازع بھی دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف کی ایک اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات مغربی صحارا پر مراکش کے دعوے کی حمایت کرتا ہے جبکہ الجزائر پولساریو فرنٹ کے موقف کی حمایت کرتا ہے جو مغربی صحارا کے لیے آزادی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ابوظبی نے مغربی صحارا میں قونصل خانہ بھی قائم کیا ہے، جسے الجزائر اپنے علاقائی موقف کے خلاف پیش رفت کے طور پر دیکھتا ہے۔
اس کے علاوہ ساحل کے خطے میں دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے علاقائی مفادات بھی ایک دوسرے سے متصادم ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے خطے کی مختلف حکومتوں کے ساتھ اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ میں اضافہ کیا ہے جبکہ الجزائر خود کو شمالی افریقہ اور ساحل کے خطے میں ایک اہم علاقائی طاقت سمجھتا ہے۔
الجزائری صدر عبدالمجید تبون گزشتہ سال خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو عمومی طور پر برادرانہ قرار دے چکے تھے، تاہم انہوں نے ایک خلیجی ملک پر الجزائر کے داخلی معاملات میں مداخلت اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کے الزامات عائد کیے تھے۔ اگرچہ انہوں نے اس ملک کا نام نہیں لیا تھا، تاہم یہ بیان بڑے پیمانے پر متحدہ عرب امارات کی جانب اشارہ سمجھا گیا تھا۔
دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ الجزائر نے رواں سال فروری میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ 2013 میں طے پانے والے فضائی خدمات کے معاہدے کو ختم کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔ اس اقدام نے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اختلافات کو مزید نمایاں کردیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے الجزائر کے تازہ فیصلے پر فوری طور پر براہ راست تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ سفارتی تعلقات کو عقلیت، رابطے اور مفادات کی وضاحت پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے اشاروں اور معموں پر جنہیں سمجھنے کے لیے اندازے لگانے پڑیں۔
الجزائر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام 1973 میں ہوا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتخانے بھی موجود رہے ہیں۔ تازہ فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے سیاسی اور سفارتی تعلقات شدید بحران سے دوچار ہوگئے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کے علاقائی اثرات بھی سامنے آنے کا امکان ہے۔