آزاد کشمیر میں سردار تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ، محافظ جاں بحق

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ آزاد کشمیر کے علاقے ٹائیں ڈلکوٹ میں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) آزاد کشمیر کے صدر سردار تنویر الیاس کے انتخابی قافلے پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک سکیورٹی گارڈ جاں بحق جبکہ سابق مشیر سردار امتیاز شاہین اور ایک اور سکیورٹی گارڈ شدید زخمی ہو گئے۔
واقعے کی تفصیلات
اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے اس وقت انتخابی قافلے کو ٹائیں ڈلکوٹ کے مقام پر نشانہ بنایا جب سردار تنویر الیاس انتخابی مہم کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے۔ فائرنگ کے اس المناک واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی جگہ کا محاصرہ کر لیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جیسا کہ ملک میں بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 24 دہشت گرد واصل جہنم ہونے جیسے واقعات سیکیورٹی صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہیں۔
سیاسی ردعمل
استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے شہید سکیورٹی گارڈ کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ عبدالعلیم خان نے اپنے بیان میں کہا کہ جمہوری سیاست میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں اور ایسے واقعات کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دلایا کہ پارٹی اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ سیاسی تجزیہ کار اس واقعے کو انتخابات کے تناظر میں ایک تشویشناک پیشرفت قرار دے رہے ہیں، جس کے بعد حکومت کو اوگرا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ اعلان کرے گا، حکومت متحرک کرنے جیسے دیگر انتظامی امور کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے معاملات پر بھی توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ دریں اثنا، علاقے میں سیکیورٹی انتظامات کو سخت کر دیا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ ملک میں معاشی استحکام کیلئے کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات تیز، بین الاقوامی تھرڈ پارٹی تصدیق لازمی قرار دیے گئے ہیں، تاہم سیاسی سرگرمیوں کے دوران سیکیورٹی یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔