اوگرا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ اعلان کرے گا، حکومت متحرک

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ ذمہ داری آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو سونپ دی ہے، جو اب عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین اور اعلان کرے گی۔ یہ اعلان وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اوگرا کے نئے خودکار نظام کا طریقہ کار
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا عالمی مارکیٹ کے مطابق روزانہ قیمتوں کا تعین کرے گی۔ اوگرا نہ صرف بین الاقوامی بینچ مارک قیمتیں بلکہ قیمت کے تعین میں شامل تمام عوامل بھی جاری کرے گی تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ قیمتوں میں کمی یا اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا نظام عالمی ادارے پلاٹس (Platts) کے سات روزہ اوسط نرخوں کی بنیاد پر کام کرے گا، جس کے تحت عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی یا اضافہ خودکار انداز میں مقامی مارکیٹ میں منتقل ہو جائے گا۔ اس سے حکومت براہِ راست قیمتوں کے تعین سے الگ ہو جائے گی اور شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ اس حوالے سے کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات تیز، بین الاقوامی تھرڈ پارٹی تصدیق لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
قیمتوں میں شفافیت اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ روزانہ قیمتوں کے اعلان سے بین الاقوامی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کا فوری فائدہ یا اثر صارفین تک پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا روزانہ نئی قیمتیں جاری کرے گی، جبکہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی شکایات بھی عوام اوگرا پورٹل پر درج کرا سکیں گے۔ وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ڈیزل کا پلاٹس بینچ مارک تقریباً 110 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 140 ڈالر جبکہ پیٹرول تقریباً 89 ڈالر سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جس کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے۔ حکومت نے مشکل حالات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تقریباً 130 ارب روپے کی سبسڈی دی۔
توانائی کے شعبے میں طویل مدتی اصلاحات
علی پرویز ملک نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں توانائی کے شعبے کی ڈی ریگولیشن اور اصلاحات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے قیام کے لیے عالمی شہرت یافتہ کنسلٹنسی سے فزیبلٹی اسٹڈی کروا رہی ہے، جبکہ سعودی عرب، کویت، قطر، ترکی، امریکہ، چین اور بڑی عالمی آئل کمپنیوں کے ساتھ پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر بھی بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت آئی ایم ایف کے تعاون سے گردشی قرضے کے مسئلے کے حل، گیس سیکٹر میں اصلاحات، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی تنظیمِ نو اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے پر بھی کام کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ ملک میں توانائی کے تحفظ کیلئے حکومت مختلف اقدامات اٹھا رہی ہے جیسا کہ حال ہی میں پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر کیلئے یکساں ای سم پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، جو معاشی ڈیجیٹلائزیشن کا حصہ ہے۔ وزیرِ پیٹرولیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ توانائی کے شعبے میں شفافیت لائی جائے گی، جس میں پی او ایف واہ میں دفاعی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر سیمینار جیسے اقدامات سے ملکی صنعتی پیداوار کو بھی تقویت ملے گی۔