ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان پُرامید، مکہ دفاعی معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت کا امکان، ڈی جی آئی ایس پی آر

ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان پُرامید، مکہ دفاعی معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت کا امکان، ڈی جی آئی ایس پی آر
اسلام آباد: ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے محتاط طور پر پُرامید ہے۔ اگر مثبت پیش رفت کے امکانات نہ ہوتے تو فیلڈ مارشل عاصم منیر دو مرتبہ ایران کیوں جاتے؟
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے والے طاقتور عناصر بھی موجود ہیں، تاہم پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ایسے مزید ممالک شامل ہوسکتے ہیں جو اجتماعی دفاع اور علاقائی امن کا مشترکہ وژن رکھتے ہوں۔ نئے ممالک کی شمولیت کا فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کی سیاسی قیادت کرے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب اور مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔ سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کا فیصلہ حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کی مشاورت سے ہوگا۔
یمن کے تنازع پر انہوں نے کہا کہ یہ یمن کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان اس تنازع کا حصہ نہیں بلکہ سعودی عرب اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بڑے فوجی آپریشنز کے بجائے دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں (IBOs) میں تیزی لائی جائے گی۔
3D Media | 31 اکتوبر 2026