سیاسی کشیدگی قومی مسائل کا باعث، نئے میثاق کی ضرورت ہے، اشرف بھٹی

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ سیاسی کشیدگی قومی مسائل کا باعث بن رہی ہے جس سے ملک کو معاشی اور انتظامی مشکلات کا سامنا ہے۔ یکم نومبر 2026 کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ ملک کو اب ایک نئے میثاق کی اشد ضرورت ہے تاکہ استحکام لایا جا سکے۔
سیاسی محاذ آرائی اور معاشی استحکام
- آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اشرف بھٹی نے ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی تلخی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
- اشرف بھٹی نے مطالبہ کیا کہ سیاسی قیادت ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد کو ترجیح دے۔
- مستحکم سیاسی ماحول کے بغیر کاروباری سرگرمیاں اور سرمایہ کاری کا فروغ ممکن نہیں ہے۔
- سیاست کے معتبر ناموں کو مذاکرات کی میز سجانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
کیا نئے میثاق سے حالات بہتر ہو سکتے ہیں؟
اشرف بھٹی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان نے جی 24 کی سربراہی سنبھال لی ہے اور معاشی بہتری کے لیے اندرونی استحکام ناگزیر ہے، جس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو قومی مفاہمت کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاست میں بڑھتی ہوئی تلخی برقرار رہی تو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوتی رہیں گی۔ پاکستان کو گروپ آف ٹوئنٹی فور کی چیئرمین شپ مل گئی ہے اور عالمی سطح پر بہتر تاثر کے لیے ملک کے اندر امن اور اتفاق رائے کا ہونا لازمی امر ہے۔
اہم سوالات و جوابات
آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر کا ملک کی موجودہ صورتحال پر کیا مؤقف ہے؟
اشرف بھٹی کا ماننا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی قومی مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہے اور اس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ملک میں سیاسی استحکام کے لیے کیا تجویز دی گئی ہے؟
اشرف بھٹی نے تجویز دی ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سیاست کے معتبر نام آگے آئیں اور ایک نئے قومی میثاق کی تشکیل پر کام کیا جائے۔