مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ایف بی آر کا آن لائن ٹیکس سسٹم 36 گھنٹے کیلئے بند

ایف بی آر کا آن لائن ٹیکس سسٹم 36 گھنٹے کیلئے بند

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ اس کا آن لائن ٹیکس سسٹم معمول کی تکنیکی دیکھ بھال (منٹیننس) کے باعث 8 اگست سے 10 اگست 2026ء تک تقریباً 36 گھنٹے کے لیے بند رہے گا۔ اس دوران متعدد اہم آن لائن خدمات دستیاب نہیں ہوں گی، جس کے باعث ٹیکس دہندگان اور دیگر صارفین متعلقہ لین دین انجام نہیں دے سکیں گے۔ یاد رہے کہ صنعتی آٹومیشن اور جدید ٹیکنالوجی پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے ناگزیر ہے، اسی لیے ایف بی آر اپنے نظام کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے۔

سسٹم بندش کا دورانیہ اور متاثرہ خدمات

ایف بی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سسٹم کی منٹیننس ہفتہ 8 اگست کی رات 12:30 بجے شروع ہوگی اور پیر 10 اگست کی صبح 5:00 بجے تک جاری رہے گی۔ اس عرصے میں IRIS، ڈیجیٹل انوائسنگ، SWAPS اور POS رجسٹریشن کی خدمات مکمل طور پر معطل رہیں گی۔ جیسے ہی یہ اپ گریڈ مکمل ہو گا، وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کر دیا ہے جس سے مستقبل میں ایسے سسٹمز کی کارکردگی مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

ٹیکس دہندگان کیلئے خصوصی ہدایات

ایف بی آر نے تمام ٹیکس دہندگان، کاروباری اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی تمام ضروری ٹیکس سرگرمیاں، جن میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانا، ٹیکس ادائیگیاں، رجسٹریشن، ریٹرنز اور دیگر وقت کی پابندی والے آن لائن لین دین شامل ہیں، منٹیننس شروع ہونے سے قبل مکمل کر لیں تاکہ کسی قسم کی تاخیر یا پریشانی سے بچا جا سکے۔ حکومتی سطح پر ادویات کی قیمتوں کے فیصلے شفاف اور عوامی مفاد میں ہوں: اورنگزیب کے ویژن کے مطابق محصولات کے نظام کو بھی شفاف اور تیز تر بنایا جا رہا ہے۔

سسٹم اپ گریڈ کا مقصد

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ منٹیننس کا مقصد ایف بی آر کے آئی ٹی سسٹمز کی کارکردگی، استحکام اور سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانا ہے۔ ادارے کے مطابق جیسے ہی تکنیکی کام مکمل ہوگا، تمام متاثرہ آن لائن خدمات فوری طور پر بحال کر دی جائیں گی۔ ایف بی آر نے اس عارضی تعطل کے باعث صارفین کو ہونے والی ممکنہ زحمت پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے تمام ٹیکس دہندگان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں