بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کر سکتا، قیصر

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے واضح کیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو نہ تو معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے ختم کرنے کا مجاز ہے، کیونکہ ایسا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور غیر قانونی تصور ہوگا۔ اتوار کو اسلام آباد میں ‘ایمپاک اسٹریٹیجیز’ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک خصوصی تقریب، جس کا عنوان ‘پانی، موسمیاتی تبدیلی اور سفارت کاری: پاکستان کے سندھ طاس کا مستقبل کا تحفظ’ تھا، سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پانی کے تنازع پر جاری کشیدگی نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن اور مجموعی معاشی استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
آبی تحفظ اور جامع قومی پالیسی کی ضرورت
تقریب میں پیش کی گئی تحقیقی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو اب وقتی اور ہنگامی اقدامات سے نکل کر پانی کے تحفظ کے لیے ایک مربوط اور جامع قومی پالیسی اپنانی ہوگی تاکہ بڑھتے ہوئے سیلابی خطرات اور شدت اختیار کرتے آبی بحران کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔ مون سون 2026: ایمرجنسی ریسپانس کمیٹی کا تیاریوں پر اہم اجلاس کے تناظر میں یہ رپورٹ ملکی آبی انفراسٹرکچر کی خامیوں کو اجاگر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حالیہ مون سون کے دوران دریائے چناب میں پانی کے غیر معمولی بہاؤ نے پاکستان کے موجودہ آبی انتظامی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے گہرے اثرات تحقیقاتی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ غیر معمولی بارشیں، بالائی علاقوں سے آنے والا سیلابی ریلہ، پانی ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت، فرسودہ آبپاشی کا نظام اور زیرِ زمین پانی کے غیر منصفانہ انتظام نے ملک کو موسمیاتی آفات کے سامنے انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور آبادی میں بے تحاشا اضافہ دریائے سندھ طاس پر دباؤ کا باعث بن رہا ہے، جس سے پاکستان ایک سنگین آبی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے داخلی آبی وسائل کو بہتر بنائے بلکہ علاقائی سطح پر فعال آبی سفارت کاری کو بھی ترجیح دے۔
پالیسی ترجیحات اور مستقبل کا لائحہ عمل
رپورٹ میں پانچ اہم پالیسی ترجیحات تجویز کی گئی ہیں، جن میں 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ معاہدے پر مؤثر عمل درآمد، پانی ذخیرہ کرنے کے لیے نئے انفراسٹرکچر کی تعمیر، چین کے ساتھ ہائیڈرولوجیکل تعاون، افغانستان کے ساتھ تکنیکی مذاکرات، اور موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل واٹر اکاؤنٹنگ اور پانی کے تحفظ کو قومی سلامتی کا حصہ بنا کر بین الاقوامی موسمیاتی فنڈنگ حاصل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ خرم شہزاد کا قومی ٹیکس سیمینار سے معاشی اصلاحات پر خطاب کے تسلسل میں، ماہرین نے معاشی استحکام کے لیے آبی انتظام کو ناگزیر قرار دیا۔ ایمپاک اسٹریٹیجیز کے سی ای او احمد یونس نے کہا کہ پانی کا تحفظ اب پاکستان کی غذائی اور معاشی سلامتی کا بنیادی جزو ہے اور اس کے لیے سائنسی منصوبہ بندی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مینگرووز کی بحالی بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے، اور اسی طرح کے دیگر اقدامات سے ملک کی آبی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔