مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

خرم شہزاد کا قومی ٹیکس سیمینار سے معاشی اصلاحات پر خطاب

خرم شہزاد کا قومی ٹیکس سیمینار سے معاشی اصلاحات پر خطاب (تصویر 1)

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیرِ خزانہ کے مشیر جناب خرم شہزاد نے پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن اور لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقدہ چار روزہ قومی ٹیکس سیمینار سے کلیدی خطاب کیا۔ اس اہم تقریب کے دوران انہوں نے وزیراعظم کی قیادت میں ایف بی آر اصلاحات پر کام جاری ہے، محمد اورنگزیب کے وژن کے تناظر میں پاکستان کی معاشی صورتحال، حکومت کے جاری ساختی اصلاحاتی ایجنڈے، مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی ترجیحات اور نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کے نفاذ پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔

سیمینار میں شرکت اور معاشی استحکام

سیمینار میں صدر پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن جناب احسان الحق شیخ، صدر لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن جناب رانا ثاقب منیر، پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے سرپرست اور چیئرمین پاکستان ٹیکس بار اکیڈمی جناب عبدالقادر میمن، مہمانِ خصوصی ممبر اپیلیٹ ٹریبونل اِن لینڈ ریونیو جناب ظہور احمد، معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر ندیم الحق سمیت ملک بھر سے سینئر ٹیکس ماہرین، وکلاء، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور ٹیکس شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے ذمہ دارانہ مالی نظم و ضبط اور مشکل مگر ناگزیر ساختی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی شعبے کی مضبوطی، بہتر قرضہ جاتی نظم و نسق اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی نے پاکستان کو معاشی استحکام سے پائیدار اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی جانب گامزن کیا ہے۔

خرم شہزاد کا قومی ٹیکس سیمینار سے معاشی اصلاحات پر خطاب (تصویر 2)

عالمی سطح پر معاشی اصلاحات کی پذیرائی

انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جس کا اظہار پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی خودمختار کریڈٹ ریٹنگز، آئی ایم ایف پروگرام کے کامیاب جائزوں، بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی، سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مثبت آراء سے ہوتا ہے، جو پاکستان کی مضبوط ہوتی معاشی بنیادوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک متوازن، ذمہ دارانہ اور ترقی دوست بجٹ ہے، جس کا مقصد سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینا ہے، جبکہ مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھا گیا ہے۔

ٹیکس نظام میں ڈیجیٹلائزیشن اور نئے ماڈل کا نفاذ

خرم شہزاد کا قومی ٹیکس سیمینار سے معاشی اصلاحات پر خطاب (تصویر 3)

مشیرِ خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو نمایاں ریلیف دیا گیا ہے، کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کی مسابقت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، ٹیرف اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، معیشت کی دستاویزی شکل کو فروغ دیا گیا ہے، اور حکومت نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ٹیکس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، نہ کہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالا جائے گا۔ انہوں نے حکومت کے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے پر بھی روشنی ڈالی، جس میں ٹیکس انتظامیہ، عوامی قرضوں کا مؤثر انتظام، نجکاری، سرکاری اداروں کی اصلاحات، پنشن اصلاحات، توانائی کے شعبے کی اصلاحات، ڈیجیٹل پاکستان اقدامات، سرمایہ مارکیٹوں کی ترقی اور مالی سہولیات تک رسائی میں بہتری شامل ہیں۔

نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کے فوائد

انہوں نے کہا کہ نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، جس کے تحت روایتی افسر پر مبنی نظام کو ڈیٹا پر مبنی، ٹیکنالوجی سے آراستہ، فیس لیس، شفاف اور زیادہ جوابدہ نظام میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس ماڈل کے تحت آڈٹ، اسیسمنٹ اور فیلڈ آپریشنز کو الگ الگ خصوصی شعبوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، جبکہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مرکزی ڈیٹا اینالیٹکس اور رسک پر مبنی کمپلائنس نظام کے ذریعے اختیارات کے غیر ضروری استعمال، براہِ راست رابطے اور صوابدیدی فیصلوں کو کم کیا جائے گا۔ سیمینار کے دوران ڈاکٹر ندیم الحق نے ٹیکس پالیسی اصلاحات پر کلیدی خطاب کیا، جبکہ ایف سی اے محمد ریحان صدیقی نے فیس لیس جیورسڈکشن اور ٹیکس انتظامیہ کی ڈیجیٹلائزیشن پر پریزنٹیشن دی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں