مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

وزیراعظم کی قیادت میں ایف بی آر اصلاحات پر کام جاری ہے، محمد اورنگزیب

وزیراعظم کی قیادت میں ایف بی آر اصلاحات پر کام جاری ہے، محمد اورنگزیب

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پاکستان ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات، ایف بی آر کی استعداد کار میں اضافے، کیش لیس معیشت کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ملک کے مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کا مقصد عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنا اور ایک ایسا شفاف نظام قائم کرنا ہے جو پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد بن سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائینسز (لمز) میں ایف بی آر کے پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ پروگرام کی اختتامی اور سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین محمد راشد لنگڑیال سمیت فیکلٹی ممبران اور ڈپلومہ پروگرام مکمل کرنے والے افسران کی کثیر تعداد موجود تھی۔

ایف بی آر میں نیا ماڈل، کارکردگی اور شفافیت میں اضافہ

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی انہیں ہر مرحلے پر بھرپور حمایت حاصل رہی ہے اور حکومت ٹیکس پالیسی اور ٹیکس انتظامیہ میں بہتری کے لیے مربوط انداز میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں ایک نیا ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے جس سے ادارے کی کارکردگی، شفافیت اور استعداد میں نمایاں بہتری آئے گی۔ محمد اورنگزیب نے تربیتی پروگرام مکمل کرنے والے افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اب ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، دیانت داری اور جدید علم کی بدولت ادارے میں مثبت تبدیلی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ افسران ایف بی آر کو ایک جدید، موثر اور عوام دوست ادارہ بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

معیشت کی دستاویزی تشکیل اور ٹیکس نیٹ کی وسعت

انہوں نے کہا کہ جب پاکستان 2047 میں آزادی کے سو سال مکمل کرے گا تو 2026 میں شروع کیا گیا یہ پروگرام ایک ایسے سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے ادارہ جاتی اصلاحات اور تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان کہاں کھڑا ہوگا اس کا انحصار ان فیصلوں پر ہے جو آج کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم خصوصی طور پر ایف بی آر اصلاحات اور کیش لیس اکانومی کے فروغ پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے اور مالیاتی شفافیت کو فروغ ملے۔ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اصلاحاتی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ حکومت ملکی ترقی کیلئے برآمدات پر مبنی معیشت ضروری ہے، احسن اقبال کے ویژن پر عمل پیرا ہے۔ مزید برآں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ، نوٹیفکیشن جاری جیسے چیلنجز کے باوجود معاشی اصلاحات کا عمل جاری ہے۔

مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

انہوں نے زور دیا کہ ایف بی آر کے افسران کو جدید ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا کیونکہ آج کا دور اے آئی کا دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو مسلسل اپ ڈیٹ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ادارے کی کارکردگی عالمی معیار کے مطابق بنائی جا سکے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ جس طرح پاکستان کی تمام جامعات میں مصنوعی ذہانت کا کورس لازمی قرار دیا گیا ہے، اسی طرح سرکاری اداروں میں بھی جدید علوم کا نفاذ ناگزیر ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کا عزم

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین محمد راشد لنگڑیال نے کہا کہ ایف بی آر کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت موثر ٹیکس نظام کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔ محمد راشد لنگڑیال نے کہا کہ ایف بی آر کی کوشش ہے کہ اس کے افسران ایسی صلاحیتوں اور قابلیت کے حامل ہوں جن سے نہ صرف ادارے بلکہ ملک کو بھی فائدہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس کے نظام کو مزید موثر، جدید اور شفاف بنایا جا رہا ہے جبکہ تمام افسران ایک منظم نظام کے تحت دیانت داری اور شفافیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر کورس میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افسران میں ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں