پاکستان کی تمام جامعات میں مصنوعی ذہانت کا کورس لازمی قرار

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ملک بھر کی تمام سرکاری اور نجی جامعات میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence – AI) کا لازمی کورس متعارف کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس کا باقاعدہ نفاذ فال 2026 کے تعلیمی سیشن سے کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد پاکستانی طلبہ کو تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی ڈیجیٹل معیشت اور مستقبل کے روزگار کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے، کیونکہ صنعتی آٹومیشن اور جدید ٹیکنالوجی پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے ناگزیر ہو چکی ہے۔
تعلیمی نصاب میں تبدیلی اور کریڈٹ آورز کی تفصیلات
ایچ ای سی کی ہدایات کے مطابق تمام جامعات اپنے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرامز میں تین کریڈٹ آورز پر مشتمل AI کورس شامل کریں گی۔ یونیورسٹیاں اسے اپنے تعلیمی ڈھانچے کے مطابق اختیاری، معاون یا بین الشعبہ جاتی مضمون کے طور پر پیش کر سکیں گی، تاہم ہر ڈگری پروگرام میں اس کی شمولیت لازمی ہوگی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف کمپیوٹر سائنس تک محدود ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ صحت، انجینئرنگ، تجارت، میڈیا، قانون، زراعت، تعلیم اور سماجی علوم سمیت تقریباً ہر شعبے میں اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کورس کا نصاب اور مقاصد
ایسے میں ہر طالب علم کے لیے AI کی بنیادی سمجھ بوجھ اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال سے آگاہی ناگزیر ہو چکی ہے۔ نئے کورس میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی اصول، عملی استعمال، اخلاقی تقاضے، ڈیٹا پرائیویسی، سائبر سکیورٹی، شفافیت، ذمہ دارانہ استعمال اور معاشرتی اثرات جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ طلبہ کو جدید AI ٹولز سے بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ وہ اپنی تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ زندگی میں ان سے مؤثر انداز میں استفادہ کر سکیں۔
تحقیق اور ڈیجیٹل معیشت پر اثرات
ایچ ای سی کے مطابق اس اقدام سے پاکستانی جامعات میں تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کو فروغ ملے گا، جبکہ فارغ التحصیل طلبہ عالمی لیبر مارکیٹ میں بہتر مسابقت کی صلاحیت حاصل کر سکیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کر دیا ہے جو کہ ملک میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تعلیمی ماہرین نے اس فیصلے کو پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں ایک اہم اصلاح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ AI کی بنیادی تعلیم تمام شعبوں کے طلبہ کے لیے یکساں اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ یہ اقدام مستقبل میں ملک کی ڈیجیٹل معیشت، ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں اور تحقیق و ترقی کے شعبے کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جس طرح وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی عالمی توانائی کمپنیوں سے ملاقات کے دوران ملکی معاشی استحکام کو ترجیح دی گئی تھی۔