مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کے لیے اہم پیش رفت

آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کے لیے اہم پیش رفت

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نجکاری کمیشن کے بورڈ نے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے لیے تنظیم نو (Restructuring) کے منصوبوں اور انتظامات کی اسکیموں کی منظوری کی سفارش کر دی ہے۔ وزارتِ نجکاری کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نجکاری کمیشن کا اجلاس وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور بورڈ کے چیئرمین محمد علی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (CCoP) کو سفارش کی گئی کہ بیچ ون (Batch-I) میں شامل تینوں ڈسکوز کی نجکاری کے لیے تیار کردہ تنظیم نو کے منصوبوں اور انتظامات کی اسکیموں کی منظوری دی جائے۔ یاد رہے کہ حکومت ملک میں بہتر انتظامی امور کے لیے رائٹ سائزنگ عمل تیز کیا جائے، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت کے تحت اصلاحات پر گامزن ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ منصوبے تینوں کمپنیوں کے 31 مارچ 2026 تک کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔ مجوزہ فریم ورک کا مقصد حکومت پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ یقینی بنانا، نجکاری کے عمل کو تجارتی طور پر قابلِ عمل بنانا اور مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے اسے مزید پرکشش بنانا ہے۔ منصوبے کے تحت حکومت کی ملکیت میں ایک خصوصی مقصدی کمپنی (Special Purpose Vehicle – SPV) قائم کی جائے گی، جس میں ان اثاثوں اور واجبات کو منتقل کیا جائے گا جو نجکاری کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوں گے۔ حکام کے مطابق اس انتظام سے نجکاری کا عمل زیادہ مؤثر، شفاف اور تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل بنایا جا سکے گا۔ بورڈ کو بتایا گیا کہ بیچ ون ڈسکوز کی نجکاری میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے نمایاں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اظہارِ دلچسپی (EOIs) جمع کرانے کی آخری تاریخ فیسکو کے لیے 7 اگست 2026، گیپکو کے لیے 21 اگست 2026 جبکہ آئیسکو کے لیے 7 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ اجلاس میں اسلام آباد، لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے عمل کی نگرانی کے لیے دو ٹرانزیکشن کمیٹیوں کی تشکیل کی بھی منظوری دی گئی۔ اعلامیے کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مالیاتی مشیر مقرر کیا جا چکا ہے، جبکہ لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کے لیے مالیاتی مشیروں کی تقرری کا عمل جاری ہے۔ اس دوران پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز درپیش ہیں، وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے معاشی استحکام پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ نجکاری کمیشن بورڈ نے مالی سال 2024-25 تا 2026-27 کے دوران مکمل ہونے والے نجکاری کے معاملات کے آڈٹ کے لیے آر ایس ایم اویس حیدر لیاقت نعمان، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی تقرری کی بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ مالی سال 2025-26 تا 2027-28 کے لیے نجکاری کمیشن کے سالانہ مالی آڈٹ کی ذمہ داری پہلے ہی بی ڈی او ابراہیم اینڈ کمپنی، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کو مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے سونپی جا چکی ہے۔ اجلاس کے اختتام پر نجکاری کمیشن بورڈ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کے نجکاری پروگرام کو شفاف، مسابقتی اور پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھایا جائے گا تاکہ اداروں کی کارکردگی بہتر ہو، نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اور حکومت و عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ اس سلسلے میں حکومت دیگر اہم امور پر بھی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی قطری وزیر داخلہ سے اہم ملاقات جیسے اقدامات شامل ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں