مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی معیشت کیوں نہیں ٹوٹی؟ نئی رپورٹ

امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی معیشت کیوں نہیں ٹوٹی؟ نئی رپورٹ

تہران (نمائندہ خصوصی)۔ امریکہ کی جانب سے طویل عرصے سے عائد سخت اقتصادی پابندیوں، حالیہ جنگی دباؤ اور فوجی حملوں کے باوجود ایران کی معیشت مکمل طور پر کیوں نہیں ٹوٹی؟ اس سوال کا جواب ایک نئی تجزیاتی رپورٹ میں دیا گیا ہے، جس کے مطابق شدید مشکلات کے باوجود ایران نے بعض ایسے معاشی ذرائع اور حکمت عملیاں برقرار رکھی ہیں جنہوں نے معیشت کو مکمل انہدام سے بچائے رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ ایران کی معیشت برسوں سے امریکی پابندیوں، بلند افراطِ زر، کرنسی کی قدر میں کمی، بے روزگاری اور حالیہ جنگ کے اثرات کا سامنا کر رہی ہے، لیکن ملکی اقتصادی نظام مکمل طور پر منہدم نہیں ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران گزشتہ کئی برسوں سے پابندیوں کے ماحول میں خود کو ڈھال چکا ہے اور اس کی معیشت کسی حد تک ان حالات کے مطابق تبدیل ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی معیشت میں تیل کی برآمدات اب بھی بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگرچہ مغربی پابندیوں نے سرکاری برآمدات کو محدود کیا، تاہم ایران نے مختلف ذرائع سے اپنی تیل کی فروخت جاری رکھی، جس سے حکومت کو غیر ملکی زرمبادلہ حاصل ہوتا رہا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت سفارتی مشنز کی تنظیم نو کا اجلاس ہوا، جس میں علاقائی تجارت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا، اسی طرح ایران نے بھی ہمسایہ ممالک اور ایشیائی شراکت داروں کے ساتھ تجارت کو وسعت دی ہے۔ اس کے علاوہ غیر رسمی تجارتی نیٹ ورکس اور متبادل مالیاتی طریقہ کار نے بھی پابندیوں کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران صنعتی تنصیبات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بعض دیگر اقتصادی شعبوں کو نقصان پہنچا، جس سے معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا، تاہم حکومت نے بنیادی خدمات اور ضروری اشیا کی فراہمی برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ وزیراعظم کی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کیلئے قرضوں میں اضافے کی ہدایت کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران نے بھی اسی طرح کے مقامی صنعتوں کو متحرک رکھنے کے اقدامات کیے ہیں۔ رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی معیشت کا مستقبل بڑی حد تک جنگ کی صورتحال، امریکی پابندیوں اور تیل کی برآمدات پر منحصر ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری جیسے مسائل کا سامنا ہے، لیکن معیشت میں مسلسل دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کے لیے اہم پیش رفت جیسے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنے اقتصادی ڈھانچے کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں، اور ایران بھی اسی حکمت عملی کے تحت اپنی معاشی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں