پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرتے ہوئے 31 جولائی کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا اور یہ قیمتیں 24 گھنٹے کے لیے نافذ رہیں گی۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 9 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 336 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 2 روپے 42 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 393 روپے 4 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔
قیمتوں کے تعین کا نیا نظام
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے نئے نظام کے تحت گزشتہ چند روز کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں متعدد مرتبہ ردوبدل کیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، زرمبادلہ کی شرح اور درآمدی اخراجات میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے، جس کی تفصیل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے والی کمیٹی کی رپورٹس سے واضح ہوتی ہے۔ گزشتہ 14 روز کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 67 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوچکا ہے، جو حالیہ عرصے میں ڈیزل کی قیمت میں نمایاں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے ایک روز قبل، 29 جولائی کو حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 75 پیسے کمی کی تھی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 24 پیسے اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں پیٹرول 335 روپے 6 پیسے اور ڈیزل 390 روپے 62 پیسے فی لیٹر ہوگیا تھا۔ اس سے قبل 28 جولائی کو بھی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 63 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 55 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ یوں روزانہ قیمتوں کے نئے طریقہ کار کے تحت رواں ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں پر اثرات
حکومت کا مؤقف ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین کا مقصد عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کو مقامی مارکیٹ میں زیادہ تیزی سے منتقل کرنا ہے۔ تاہم مسلسل اضافوں کے باعث صارفین، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری حلقوں پر ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ عام شہریوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ موٹر سائیکل، رکشہ اور نجی گاڑیوں سمیت بڑے پیمانے پر نجی ٹرانسپورٹ پیٹرول پر انحصار کرتی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، زرعی سرگرمیوں اور دیگر شعبوں کے اخراجات کو متاثر کرسکتا ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق 31 جولائی کو پیٹرول 336 روپے 15 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 393 روپے 4 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔