مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں پٹرولیم سیکٹر میں شفافیت اور صارفین کے تحفظ کے لیے اہم پیش رفت پر غور کیا گیا۔

پٹرولیم قیمتوں کے تعین کا نیا نظام

اجلاس کے دوران مرکزی کمیٹی کی جانب سے قائم ذیلی کمیٹیوں نے پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے مختلف پہلوئوں سے متعلق اپنی جامع سفارشات اور نتائج پیش کیے۔ اس موقع پر کے پی ایم جی (KPMG) نے خطے کے ممالک میں پٹرولیم کی قیمتوں اور ٹیکس کے ڈھانچے کا تفصیلی موازنہ پیش کرتے ہوئے اپنی رپورٹ کمیٹی کے سامنے رکھی۔ کمیٹی کے اراکین نے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے فارمولے اور نئے پرائسنگ میکنزم میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔

ڈی ریگولیشن اور شفافیت کا عزم

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولیشن ایک واضح، مرحلہ وار اور قابل پیمائش روڈ میپ کے تحت ہونی چاہیے، جس میں پیش رفت جانچنے کے لیے مخصوص اہداف اور سنگ میل کا تعین کیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے ازالے کیلئے ڈیجیٹل نظام کا قیام کی طرز پر پٹرولیم سیکٹر میں بھی ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔

کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ویب سائٹ پر ڈیش بورڈ فعال کر دیا گیا ہے، جہاں پٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں، قابل اطلاق فارمولے اور متعلقہ ڈیٹا تک رسائی ممکن ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو پٹرولیم سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن یقینی بنانے کا ذمہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو بہتر بنایا جا سکے۔

اسٹریٹجک ذخائر اور آئندہ کا لائحہ عمل

اجلاس میں سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر اور مجوزہ پرائس سٹیبلائزیشن فنڈ کے پٹرولیم قیمتوں کے تعین پر ممکنہ اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو کم کیا جا سکے۔ وزیر پٹرولیم نے راولپنڈی میں خودکار ای چالان نظام مزید چودہ مقامات تک توسیع کی طرح دیگر سرکاری شعبوں میں بھی جدید نظام کی افادیت کو سراہا۔

اجلاس میں نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیام پر عائد پابندی اور اس کے مسابقت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ ونڈ فال ٹیکس کے معاملے پر فیصلہ کیا گیا کہ وزارت خزانہ، ایف بی آر اور پٹرولیم ڈویژن باہمی مشاورت کے بعد آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کریں گے۔ اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیٹر این سی ایم سی لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو کے تناظر میں خطے میں معاشی استحکام کے لیے حکومتی کاوشوں کا اعادہ کیا گیا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں