آرگینک زراعت کے فروغ کیلئے اعلیٰ سطحی قومی بورڈ تشکیل دیا جائے

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ آرگینک خوراک اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے آرگینک شعبے کی ترقی کے لیے اعلیٰ سطحی قومی بورڈ تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی یقینی بنائی جائے تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت اس شعبے کو فروغ دیا جا سکے۔
زرعی شعبے میں نئی اور منافع بخش فصلوں کی کاشت
اپنے بیان میں نجم مزاری نے کہا کہ پاکستان کو روایتی فصلوں کے ساتھ ساتھ زعفران، چیا سیڈ، چائے اور مختلف اقسام کے مصالحہ جات جیسی نئی اور زیادہ منافع بخش اجناس کی کاشت پر بھی توجہ دینی چاہیے، کیونکہ ان کی عالمی منڈی میں طلب اور برآمدی صلاحیت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ ضروریات کیلئے خلاء میں ڈیٹا سینٹرز کا منصوبہ جیسے جدید دور میں زرعی ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔
آرگینک زراعت کیلئے سرکاری سطح پر اقدامات کی ضرورت
نجم مزاری نے کہا کہ آرگینک زراعت کے فروغ کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے متعدد بار مطالبات کیے جا چکے ہیں، تاہم ان پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی، جس کے باعث کسانوں کا اس شعبے کی جانب رجحان محدود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آرگینک خوراک اور مصنوعات کی بین الاقوامی معیار کے مطابق سرٹیفکیشن اور ٹریسبلٹی کو یقینی بنایا جائے تو پاکستان عالمی منڈی میں اربوں ڈالر کی برآمدات حاصل کر سکتا ہے۔ جس طرح پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی میں ویسل مانیٹرنگ سسٹم کا معاہدہ ایک اہم پیشرفت ہے، اسی طرح زراعت کے شعبے میں بھی جدید نگرانی کے نظام لانے چاہئیں۔
نوجوانوں کیلئے زرعی اراضی اور مراعات
نجم مزاری کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل تیزی سے زراعت سے دور ہو رہی ہے، جس کے باعث مستقبل میں زرعی شعبے کو افرادی قوت کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے 40 سال تک عمر کے نوجوانوں کو سرکاری زرعی اراضی آسان شرائط پر لیز پر دی جائے اور انہیں بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ وہ جدید زراعت کی جانب راغب ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں کو مناسب مراعات، جدید تربیت اور مالی سہولتیں فراہم کی جائیں تو نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ واٹس ایپ کا کاروباری پیغامات کیلئے الگ فولڈر متعارف کرانے کا فیصلہ جیسے اقدامات کی طرح کاروباری سہولت کاری کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ آخر میں انہوں نے زور دیا کہ زرعی شعبے کی ترقی، خوراک کے تحفظ اور برآمدات میں اضافے کے لیے بروقت فیصلے ناگزیر ہیں، بصورت دیگر مستقبل میں ملک کو مزید معاشی اور زرعی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔