مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ ضروریات کیلئے خلاء میں ڈیٹا سینٹرز کا منصوبہ

مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ ضروریات کیلئے خلاء میں ڈیٹا سینٹرز کا منصوبہ (تصویر 1)

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث کمپیوٹنگ کی ضروریات میں غیرمعمولی اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں خلاء میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہیں۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واٹس ایپ کا کاروباری پیغامات کیلئے الگ فولڈر متعارف کرانے کا فیصلہ جیسے اقدامات سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں جدت کی نئی لہریں جنم لے رہی ہیں۔

خلائی ڈیٹا سینٹرز: ایک جدید تصور

مجوزہ خلائی ڈیٹا سینٹرز شمسی توانائی سے چلنے والے ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ سسٹمز پر مشتمل ہوں گے، جس سے زمین پر قائم روایتی ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار بھاری مقدار میں بجلی، پانی اور زمین پر انحصار کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکے گا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس، بلیو اوریجن اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی وسیع کمپیوٹنگ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مدار میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ خلاء میں موجود ڈیٹا سینٹرز کو مسلسل اور بلا تعطل شمسی توانائی میسر آ سکتی ہے، جس سے مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ ضروریات کو پائیدار بنیادوں پر پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ ضروریات کیلئے خلاء میں ڈیٹا سینٹرز کا منصوبہ (تصویر 2)

توانائی اور ماحولیاتی چیلنجز

اس منصوبے کو زمین پر قائم ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی توانائی، پانی اور انفراسٹرکچر کی ضروریات کا ممکنہ حل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ کمپیوٹنگ وسائل کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں ہائی رائز کمرشل عمارتوں کیلئے پارکنگ قواعد نرم کرنے جیسے پالیسی فیصلوں کی طرح، خلائی انفراسٹرکچر کے لیے بھی نئے ضابطوں کی ضرورت پیش آئے گی۔ تاہم، اس منصوبے پر ماحولیاتی تنظیموں، سائنس دانوں اور فلکیاتی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر خلائی ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے لیے ہزاروں بلکہ ممکنہ طور پر لاکھوں اضافی سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے پڑ سکتے ہیں، جس سے خلائی ملبے میں اضافہ، راکٹ لانچز کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ اور سیٹلائٹس کے دوبارہ زمین کے ماحول میں داخل ہونے سے فضائی آلودگی کے سنگین خدشات پیدا ہوں گے۔

ماہرین کا انتباہ اور مستقبل کا لائحہ عمل

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خلائی سرگرمیوں میں اس حد تک اضافے سے اوزون کی تہہ متاثر ہونے اور روشنی کی آلودگی میں اضافے کا بھی قوی امکان ہے، جس کے باعث فلکیاتی مشاہدات اور سائنسی تحقیق شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ جیسے کہ ملک کی چار ہائیکورٹس میں 19 نئے ججز کی تعیناتی التوا کا شکار ہے، اسی طرح خلائی منصوبوں کی منظوری کا عمل بھی قانونی اور تکنیکی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) اور دیگر متعلقہ عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے منصوبوں کی منظوری سے قبل ان کے ماحولیاتی اثرات کا جامع اور شفاف جائزہ لیا جائے۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی قوانین خلاء میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ممکنہ اثرات کا مکمل احاطہ نہیں کرتے۔ اگرچہ اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ خلائی ڈیٹا سینٹرز مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے لیے پائیدار کمپیوٹنگ صلاحیت فراہم کر سکتے ہیں، تاہم صنعت سے وابستہ ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کی تکنیکی و تجارتی کامیابی کا دارومدار انجینئرنگ، ضابطہ جاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر مؤثر انداز میں قابو پانے پر ہوگا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں