مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سابق فاٹا اور پاٹا میں امن بحالی تک ٹیکسوں کا خاتمہ ضروری ہے: امیر مقام

سابق فاٹا اور پاٹا میں امن بحالی تک ٹیکسوں کا خاتمہ ضروری ہے: امیر مقام

سوات (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال اور معاشی حالات معمول پر آنے تک سابق فاٹا اور پاٹا، بالخصوص مالاکنڈ ڈویژن میں عائد تمام وفاقی و صوبائی ٹیکس فوری طور پر ختم کیے جائیں۔ سوات میں مسلم لیگ (ن) مالاکنڈ ڈویژن کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہائیوں پر محیط دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے کٹھن دور میں اس خطے کے عوام نے لازوال قربانیاں دی ہیں، لہٰذا اس نازک وقت میں ان پر مزید مالی بوجھ ڈالنا کسی طور انصاف پر مبنی نہیں ہے۔

ٹیکسوں کے خلاف جاری احتجاج کی مکمل حمایت

اجلاس کے دوران شرکاء نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن کے عوام پر بوجھ بنے ہوئے تمام ٹیکسوں کو فی الفور واپس لیا جائے۔ قرارداد میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ٹیکسوں کے خلاف جاری پرامن عوامی احتجاجی تحریکوں کو مسلم لیگ (ن) کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ یہ صورتحال پاکستان میں اہم قومی پیشرفت اور عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں کے تناظر میں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ عوامی مطالبات کا بروقت حل ملکی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

سیاسی جدوجہد اور ماضی کے اقدامات

انجیر امیر مقام نے یاد دلایا کہ 2016ء میں انہوں نے مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کا جائز مقدمہ اُس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے روبرو پیش کیا تھا، جس کے مثبت نتیجے میں علاقے میں کسٹمز ایکٹ کا نفاذ واپس لے لیا گیا تھا۔ انہوں نے اس فیصلے پر نواز شریف کی بصیرت کو سراہا۔ انہوں نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے ٹیکس چھوٹ میں وقتاً فوقتاً توسیع کے اقدام کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ یہ عوامی دوست پالیسی آئندہ بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جیسے آپریشن شعبان میں مزید 4 دہشت گرد ہلاک، ہلاکتوں کی تعداد 71 ہوئی ہے، اسی طرح داخلی معاشی محاذ پر بھی عوام کو ریلیف دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

وفاقی وزیر نے کہا کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ان کی بھرپور کوششوں سے پاٹا میں ٹیکس چھوٹ کا تسلسل برقرار رہا اور وہ گزشتہ دس سالوں سے مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکسوں کے نفاذ پر بات چیت صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب اس علاقے میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح پائیدار امن، ترقیاتی کام اور بنیادی عوامی سہولیات میسر ہوں۔ انہوں نے تاجر برادری، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے جاری پرامن احتجاج کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری اور آئینی فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔ اس ضمن میں حکومت کو پاکستان میں اہم قومی پیشرفت اور عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے عوام کی مشکلات کا ادراک کرنا ہوگا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں