حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ، جوڈیشل کمیشن تشکیل پائے گا

کوئٹہ (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی مفاہمتی کوششیں کامیاب ہو گئیں، حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد فریقین کے درمیان ایک تحریری معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے میں شہدائے زیارت کے لواحقین کے مطالبات پر عملدرآمد اور صوبے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ جیسا کہ کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات تیز، بین الاقوامی تھرڈ پارٹی تصدیق لازمی قرار دیے گئے ہیں، اسی طرح انتظامی امور میں بہتری کے لیے اس معاہدے کو اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
شہدائے زیارت کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام
معاہدے کے مطابق شہدائے زیارت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر اپوزیشن جماعتوں اور شہداء کے لواحقین کا مشترکہ اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے اس پیشرفت کو ریاستی رٹ مضبوط کرنے کی جانب ایک قدم قرار دیا گیا ہے، یاد رہے کہ ماضی میں بھی بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 24 دہشت گرد واصل جہنم جیسے اقدامات کے ذریعے امن کے قیام کی کوشش کی گئی ہے۔
پولیس فورس کی استعداد میں اضافہ
معاہدے میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان کے شہری علاقوں میں پولیس فورس کی استعداد، افرادی قوت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مؤثر انداز میں بہتر بنایا جا سکے۔ یہ اقدام صوبے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
شہداء کے لواحقین کے لیے حکومتی پیکیج
تحریری معاہدے کے تحت شہدائے زیارت کو مروجہ حکومتی پالیسی کے مطابق شہید قرار دیا جائے گا۔ ان کے لواحقین کی کفالت، بچوں کی تعلیم اور مالی معاوضہ بھی حکومتی پالیسی کے تحت فراہم کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف سرکاری عمارات ان کے نام سے منسوب کی جائیں گی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے آزاد کشمیر میں سردار تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ، محافظ جاں بحق جیسے افسوسناک واقعات کے تناظر میں سیکیورٹی اور شہداء کے لواحقین کے حقوق کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ریونیو اور عوامی مسائل کے لیے خصوصی کمیٹی
ریونیو سے متعلق عوامی تحفظات کے ازالے کے لیے وزیر ریونیو کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں متعلقہ سرکاری افسران اور علاقے کے معتبرین شامل ہوں گے تاکہ عوامی مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا بیان
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہداء ہمیں بے حد عزیز ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کی ہر ممکن دیکھ بھال حکومت بلوچستان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پاک فوج، ایف سی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ملک کے امن و استحکام کے لیے ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔