بی آئی ایس پی کا ڈیجیٹل ادائیگی نظام، 90 فیصد خواتین کے والٹ اکاؤنٹس فعال

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) سینیٹر روبینہ خالد نے لاہور میں بی آئی ایس پی کے سینٹرل زونل آفس کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پنجاب نصیر الدین سرور نے انہیں ادارے کے آپریشنل امور، رقوم کی ادائیگیوں اور جاری فلاحی سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔ دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر بی آئی ایس پی نے خواتین مستحقین کو رقوم کی فراہمی کو شفاف، آسان اور محفوظ بنانے کیلئے جدید ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام متعارف کرایا ہے۔ جس طرح قیصر احمد شیخ کا بی ایف سی اسلام آباد کا دورہ، کارکردگی کا جائزہ کے دوران سرکاری اداروں کی کارکردگی پر زور دیا گیا، اسی طرح بی آئی ایس پی بھی جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 90 فیصد خواتین بینیفشریز کے ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں۔
ڈیجیٹل نظام کے فوائد اور شفافیت
سینیٹر روبینہ خالد نے وضاحت کی کہ نئی انٹرآپریبلٹی کے ذریعے مستحق خواتین ملک بھر میں کسی بھی وقت، مجاز بینک کے کسی بھی ایجنٹ سے اپنی رقم وصول کر سکیں گی۔ اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونے پر بینیفشریز کو میسج کے ذریعے ادائیگی کی اطلاع اور تفصیلات موصول ہوں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل والٹ کی ایکٹیویشن مکمل طور پر مفت ہے اور بی آئی ایس پی کا عملہ خود فراہم کردہ سمز پر یہ والٹس فعال کرے گا، جبکہ رقم نکلوانے کے سروس چارجز 280 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مستحق خواتین اپنا موبائل یا سم کسی ایجنٹ کے حوالے نہ کریں اور اپنی ذاتی معلومات محفوظ رکھیں۔
بی آئی ایس پی: قومی فلاح کا وژن
چیئرپرسن نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کا تسلسل ہے، جسے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی قیادت میں مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی لوگوں کو محتاج نہیں بناتا بلکہ انہیں غربت سے نکلنے کے مواقع فراہم کرتا ہے؛ مستحق خواتین کو بھکاری کہنا ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ ماضی میں وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ملاقات میں بھی سماجی تحفظ کے منصوبوں پر بات ہوئی، یہ پروگرام ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سوشل سیفٹی نیٹ ہے۔ انہوں نے ورلڈ بینک کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی پر خرچ ہونے والا ہر ایک روپیہ مقامی معیشت میں تقریباً 2.34 روپے کی معاشی سرگرمی پیدا کرتا ہے۔
بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروگرام سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کام کر رہا ہے۔ بی آئی ایس پی کے نام پر دھوکہ دہی کے تدارک کیلئے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعاون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام کو متنبہ کیا کہ بی آئی ایس پی کا واحد سرکاری نمبر 8171 ہے، لہذا اس کے علاوہ کسی بھی دوسرے نمبر سے موصول ہونے والے پیغامات پر اعتماد نہ کیا جائے۔