براڈ پیک حادثہ، چار کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد، ریسکیو جاری

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ سینیٹر رانا ثناءاللہ نے قراقرم کے بلند و بالا پہاڑی سلسلے میں واقع براڈ پیک پر پیش آنے والے برفانی تودے کے افسوسناک حادثے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس سانحے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کو قومی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں اور نیپال کے عوام کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
براڈ پیک سانحہ: ریسکیو آپریشن کی تفصیلات
رانا ثناءاللہ نے جاری بیان میں کہا کہ براڈ پیک پر کوہ پیمائی مہم کے دوران دس ارکان برفانی تودے کی زد میں آ گئے تھے۔ اس بین الاقوامی مہم میں نیپال، پاکستان، امریکہ، چین اور عمان کے کوہ پیما شامل تھے، جو انتہائی بلند اور دشوار گزار راستوں پر گامزن تھے۔ حکومتی سطح پر اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کو اولین ترجیح دی گئی، جس کے نتیجے میں اب تک چار کوہ پیماؤں کی میتیں نکال لی گئی ہیں، جن میں نیپالی کوہ پیما پور بہادر گورونگ بھی شامل ہیں۔
حکومت اور پاک فوج کی امدادی کارروائیاں
مشیرِ وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاک فوج اور متعلقہ سرکاری ادارے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ امدادی کارروائیوں میں ہیلی کاپٹرز، ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ سینیٹر رانا ثناءاللہ نے واضح کیا کہ انتہائی خراب موسم اور بلند پہاڑوں کے مشکل حالات کے باوجود لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش بلا تعطل جاری ہے۔ جی پی ایس ٹریکنگ، فضائی نگرانی اور زمینی ٹیموں کے ذریعے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ لاپتہ افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی شمالی وزیرستان میں سکیورٹی آپریشن، میجر حافظ احسان الٰہی شہید جیسے واقعات نے قوم کو سوگوار کیا ہے اور اب کوہ پیمائی کا یہ حادثہ بھی قومی سطح پر تشویش کا باعث ہے۔
بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی خدمات کا اعتراف
رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ نیپالی اور دیگر بین الاقوامی کوہ پیما اپنی غیر معمولی مہارت اور کوہ پیمائی کے میدان میں خدمات کے باعث پاکستان میں بے حد احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش مکمل ہونے تک ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلابی صورتحال: ریلوے ہائی الرٹ، سٹاف کی چھٹیاں منسوخ، حنیف عباسی کا حکم کی طرح، ایسے ہنگامی حالات میں سرکاری مشینری پوری طرح متحرک رہتی ہے۔ قوم ان بہادر کوہ پیماؤں کے لیے دعا گو ہے اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ جیسے حال ہی میں شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی و سیاسی صورتحال پر مشاورت کے دوران بھی ملکی نظم و نسق پر زور دیا گیا، اسی طرح ہنگامی صورتحال میں شفافیت اور ریسکیو آپریشن کی تکمیل حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔