مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ڈسکوز کی نجکاری کے لیے پی آئی اے کا ماڈل اپنانے کی منظوری

ڈسکوز کی نجکاری کے لیے پی آئی اے کا ماڈل اپنانے کی منظوری

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پرائیویٹائزیشن کمیشن (PC) بورڈ نے ملک کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے عمل کو تیز اور پرکشش بنانے کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) کی طرز پر ایک نیا ماڈل لانے کی تجویز دی ہے۔ اس کے تحت پہلے مرحلے میں شامل تین بڑی ڈسکوز کے اثاثوں اور ذمہ داریوں کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پرائیویٹائزیشن کمیشن کے بورڈ اجلاس میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (GEPCO) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO) کی نجکاری کے لیے ری اسٹرکچرنگ پلانز اور اسکیمز آف ارینجمنٹ کی منظوری دی گئی ہے، جنہیں اب حتمی منظوری کے لیے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (CCoP) کو بھیجا جائے گا۔

خصوصی مقصد کی گاڑی (SPV) کا قیام

مجوزہ فریم ورک کے مطابق، حکومت ایک اسپیشل پرپز وہیکل (SPV) قائم کرے گی، جس میں ان ڈسکوز کے مخصوص اثاثے اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنز سمیت بھاری واجبات کو منتقل (Carve out) کیا جائے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری کے وقت 650 ارب روپے سے زائد کے واجبات اور بوجھ کو الگ کر کے ایئر لائن کو مثبت ایکویٹی کے ساتھ خریداروں کے حوالے کرنے کا ماڈل اپنایا تھا۔ یہ اقدامات ملک میں معاشی اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستانی بندرگاہیں وسطی ایشیا کیلئے اہم ٹرانزٹ ہب بن سکتی ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پہلو ہے۔

مالیاتی صورتحال اور واجبات

سرکاری دستاویزات کے مطابق جون 2025 تک صرف ان تینوں کمپنیوں کے ریٹائرڈ ملازمین کی کل واجبات کی مالیت 312 ارب روپے تک تھی۔ مارچ 2026 کے آڈٹ شدہ مالیاتی نتائج کو بیلنس شیٹس کی تقسیم کے لیے بنیاد بنایا گیا ہے۔ کمپنیاں نجکاری کے اس پہلے مرحلے کے حوالے سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔ نجکاری کے لیے دلچسپی کے اظہار (EOIs) جمع کرانے کی آخری تاریخیں درج ذیل رکھی گئی ہیں: فیسکو (FESCO): 7 اگست 2026، گیپکو (GEPCO): 21 اگست 2026، اور آئیسکو (IESCO): 7 ستمبر 2026۔ یاد رہے کہ حالیہ معاشی پالیسیوں کے تحت وزیراعظم شہباز شریف کی یوتھ پروگرام کے تحت روزگار کے مواقع بڑھانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ کم از کم تین ڈسکوز کی نجکاری کا وعدہ کر رکھا ہے، اور اس ضمن میں سعودی عرب طویل علاقائی تنازعات سے بچنے کی حکمت عملی میں مشکل جیسے چیلنجز کے باوجود حکومتی سطح پر سرمایہ کاروں کے خدشات کو دور کر کے اس عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں