وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس، اہم منظوری

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز سے متعلق 9 نکاتی ایجنڈے پر تفصیلی غور کیا گیا اور ملکی معاشی استحکام کے لیے متعدد اہم تجاویز کی منظوری دی گئی۔
گندم ذخائر اور توانائی تحفظ کے اقدامات
ای سی سی نے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری کی منظوری دیتے ہوئے پاسکو کے گندم ذخائر تمام متعلقہ اداروں کو 85 فیصد مقامی اور 15 فیصد درآمدی گندم کے تناسب سے فراہم کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ فیصلہ درآمدی گندم کے ذخیرے کو بروقت استعمال میں لانے کے لیے پاسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا۔ کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کی تجویز بھی منظور کرلی، جس کے تحت غیر ملکی سپلائرز کے اکاؤنٹ پر کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا، مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینا، اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی ترقی اور کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات کو وسعت دے کر پٹرولیم مصنوعات کی مستحکم اور پائیدار فراہمی یقینی بنانا ہے۔

بین الاقوامی معاہدے اور پی آئی اے اثاثہ جات
ای سی سی نے پاکستان اور سلطنت عمان کے درمیان پہلے سے طے شدہ بین الحکومتی معاہدے کی روشنی میں سیل پرچیز ایگریمنٹ (SPA) کی بھی منظوری دے دی۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد توانائی کے شعبے میں عمان کی OQ Trading اور پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اجلاس میں ڈیفنس ڈویژن کی سمری پر روزویلٹ ہوٹل کی ازسرنو ترقی کے لیے یونین کے ساتھ مشاورت سے تصفیے کے لیے مذاکرات کرنے والی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ ای سی سی نے پی آئی اے انویسٹمنٹ مینجمنٹ کمپنی (PIAIL) اور نیشنل بینک آف پاکستان (NBP) کے درمیان طے شدہ ٹرم شیٹ کی بنیاد پر 153.855 ملین ڈالر کے مساوی پاکستانی روپے کی حکومتی ضمانت فراہم کرنے کی بھی منظوری دی۔
ترقیاتی منصوبوں اور سکیورٹی کے لیے گرانٹس
کمیٹی نے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم (کے۔فور منصوبہ) کے لیے واٹر ریسورسز ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ 7 ارب 797 کروڑ 16 لاکھ روپے کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری بھی دی۔ یہ رقم حکومت سندھ کی جانب سے صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں منتقل کی گئی تھی، جس سے کراچی کے لیے پانی کی فراہمی کے بڑے منصوبے میں تیزی آئے گی، جیسا کہ قیصر احمد شیخ کا بی ایف سی اسلام آباد کا دورہ، کارکردگی کا جائزہ کے موقع پر بھی حکومتی عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔ اجلاس میں وزارت داخلہ و انسداد منشیات ڈویژن کی تجویز پر 567.032 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کی گئی۔ یہ رقم وزارت خزانہ کی بچت سے فرنٹیئر کور بلوچستان (ساؤتھ) کو ریکوڈک منصوبے کی سرگرمیوں کے لیے سکیورٹی انتظامات مؤثر انداز میں جاری رکھنے کی غرض سے فراہم کی جائے گی۔ ان فیصلوں سے ملکی معاشی پالیسیوں میں تسلسل آئے گا، جو موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے تناظر میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی طرح معاشی بہتری کے لیے حکومتی اقدامات جاری ہیں، جن کے بارے میں مزید تفصیلات وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ملاقات کے اعلامیوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔