ایف پی سی سی آئی نے میاں محمد ادریس کی ہراسانی پر ہائی پاور کمیٹی تشکیل دے دی

کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے ممتاز صنعت کار اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی میاں محمد ادریس کے ساتھ جاری بلاجواز بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے کے واقعات پر گہرے تشویش، صدمے اور شدید مذمت کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایف پی سی سی آئی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں میاں محمد ادریس کے ساتھ روا رکھے گئے غیر منصفانہ رویے کے خلاف تاجر برادری کی اجتماعی آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان کی پوری کاروباری، صنعتی اور تجارتی برادری کی نمائندگی کرنے والی ایک ہائی پاور رابطہ کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی صدارت سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی منظور الحق ملک کریں گے، جبکہ سابق صدر ایف پی سی سی آئی زبیر طفیل، سینیٹر میاں محمد عتیق اور سینیٹر طلحہ محمود اس کے اراکین میں شامل ہوں گے۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کی پوری تجارتی و صنعتی برادری میاں محمد ادریس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں محمد ادریس ایک قابل احترام قومی شخصیت ہیں جنہوں نے ملک بھر میں صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، برآمدات اور فلاحی کاموں کے لیے دہائیوں تک گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ممتاز کاروباری رہنماؤں، صنعت کاروں اور دولت پیدا کرنے والوں کو من مانی ہراسانی اور دباؤ ڈالنے والے اقدامات کا نشانہ بنانا قطعی ناقابل قبول ہے اور اس سے کاروباری برادری کے وقار کو نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کو معاشی بحالی، سرمایہ کاری کے اعتماد اور صنعتی تسلسل کی اشد ضرورت ہے، اس طرح کے واقعات ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو تشویشناک پیغام دیتے ہیں۔ عاطف اکرام شیخ نے ستارہ انرجی لمیٹڈ، ستارہ کیمیکل انڈسٹریز اور فیسکو کے درمیان ایک دہائی پرانے بجلی کی خریداری کے معاہدوں سے متعلق جاری تحقیقاتی کارروائی پر بھی شدید خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2007 سے 2015 تک کے تجارتی معاہدوں، جو برسوں سے انکوائری فائلوں میں دبے ہوئے تھے، پر ایک تجربہ کار کاروباری رہنما کو اچانک پروویژنل نیشنل آئیڈینٹیفیکیشن لسٹ (PNIL) میں ڈالنا، ایئرپورٹ پر آف لوڈ کرنا اور انتظامی ہراسانی کا نشانہ بنانا شفاف قانونی عمل کے بجائے بلاجواز طاقت کے استعمال کو ظاہر کرتا ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اداروں اور انتظامی باڈیز کو ہمیشہ قانونی تقاضوں، وقار اور قائم شدہ ضابطوں کے اندر رہ کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر داخلہ، وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اعلیٰ سطح کا نوٹس لیں، شفاف تحقیقات کے ذریعے ذمہ دار عناصر کا تعین کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان کے صنعتی رہنماؤں اور کاروباری اسٹیک ہولڈرز کے لیے باوقار اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔