مریم نواز کا لاہور میں تین روزہ جشن، 12، 13 اور 14 مارچ کو بسنت منانے کا اعلان

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت 2027 کی تاریخوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں آئندہ سال تین روزہ بسنت فیسٹیول 12، 13 اور 14 مارچ کو منعقد ہوگا۔ انہوں نے پنجاب اور پاکستان بھر کے نوجوانوں، اوورسیز پاکستانیوں اور بین الاقوامی مہمانوں کو بھی بسنت 2027 میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کے مطابق کامیاب بسنت 2026 کے بعد لاہور ایک بار پھر رنگوں، ثقافت، موسیقی اور جشن کا مرکز بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے آسمان ایک بار پھر بسنت کے رنگوں سے جگمگائیں گے اور شہریوں اور مہمانوں کے لیے مختلف ثقافتی اور تفریحی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
بسنت 2026 میں 19 سال بعد واپسی
لاہور میں بسنت کی واپسی ایک طویل وقفے کے بعد ہوئی۔ پنجاب حکومت نے دسمبر 2025 میں 18 سال سے عائد پابندی ختم کرتے ہوئے سخت ضوابط کے تحت بسنت کی اجازت دی تھی۔ اس کے بعد لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو تین روزہ بسنت منائی گئی۔ پنجاب حکومت نے اسے محفوظ اور منظم انداز میں منعقد کرنے کے لیے کائٹ فلائنگ سے متعلق نئے قوانین اور ضوابط نافذ کیے تھے۔
تاہم 2026 کی بسنت پورے پنجاب میں نہیں بلکہ محدود پیمانے پر صرف لاہور میں منعقد کی گئی تھی۔ پنجاب حکومت نے واضح کیا تھا کہ دیگر اضلاع میں بسنت منانے کا کوئی منصوبہ نہیں، جبکہ لاہور میں بھی پتنگ بازی کو مخصوص دنوں اور سخت حفاظتی شرائط سے مشروط کیا گیا تھا۔
بسنت 2026 میں کیا پابندیاں تھیں؟
2026 کی بسنت کے دوران پتنگ اڑانے کی اجازت صرف 6، 7 اور 8 فروری کو دی گئی تھی۔ پتنگوں اور منظور شدہ ڈور کی تیاری، خرید و فروخت اور ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیجیٹل رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی تھی، جبکہ غیر محفوظ ڈور کے استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی۔
نائیلون، پلاسٹک اور دھاتی تار کے استعمال پر پابندی تھی جبکہ موٹر سائیکل سواروں کو ڈور سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تاریں یا راڈز لگانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ضلعی انتظامیہ نے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی اعلان کیا تھا۔
ائیرپورٹ کے قریب اور طیاروں کے ٹیک آف اور لینڈنگ کے راستوں میں بھی پتنگ اڑانے کی اجازت نہیں تھی۔ اسی طرح لاہور کے سرکاری پارکوں اور گرین بیلٹس میں بھی پتنگ بازی پر پابندی برقرار رکھی گئی تھی۔
انتظامیہ نے بسنت کے دوران ڈرونز، سیف سٹی کیمروں اور دیگر ذرائع سے نگرانی کا انتظام بھی کیا تھا تاکہ غیر قانونی پتنگ بازی اور خطرناک ڈور کے استعمال کو روکا جاسکے۔
بسنت پر پابندی کیوں لگی؟
لاہور کی بسنت ایک طویل عرصے سے موسم بہار کی آمد، پتنگ بازی، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں سے جڑی ہوئی روایت رہی ہے۔ تاہم پتنگ بازی میں دھاتی، شیشے سے مانجھی ہوئی اور دیگر خطرناک ڈور کے استعمال کے باعث شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا۔
2005 میں بسنت کے دوران متعدد ہلاکتوں اور حادثات کے بعد سپریم کورٹ نے خطرناک ڈور کے استعمال کے معاملے کا نوٹس لیا اور پتنگ بازی کے حوالے سے سخت اقدامات کیے گئے۔ بعد ازاں پنجاب میں بسنت پر پابندی عائد کردی گئی۔
خطرناک ڈور سے سب سے زیادہ خطرہ موٹر سائیکل سواروں کو لاحق ہوتا تھا۔ ڈور گلے یا جسم کے دیگر حصوں سے ٹکرانے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی یا جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ چھتوں سے گرنے، بجلی کی تاروں سے حادثات اور ہوائی فائرنگ سمیت دیگر واقعات بھی بسنت کے دوران سامنے آتے رہے۔
2007 میں پابندی میں نرمی کی کوشش بھی کی گئی اور سخت ضوابط کے تحت بسنت کی اجازت دینے کا فیصلہ سامنے آیا، تاہم خطرناک ڈور سے ہونے والی ہلاکتوں اور دیگر حادثات کے باعث بالآخر پابندی طویل عرصے تک برقرار رہی۔
بسنت کی تاریخی اہمیت
بسنت کو پنجاب کی قدیم ثقافتی روایات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ موسم بہار کی آمد، رنگوں اور خوشیوں سے منسلک تہوار ہے۔ لاہور میں وقت کے ساتھ پتنگ بازی اس تہوار کا نمایاں ترین حصہ بن گئی اور بسنت نے شہر کی ثقافتی شناخت میں خاص مقام حاصل کیا۔
لاہور میں بسنت کے دوران گھروں کی چھتوں پر پتنگ بازی، روایتی کھانے، موسیقی اور دیگر تقریبات منعقد ہوتی رہی ہیں۔ ماضی میں یہ تہوار ملک کے مختلف حصوں سے لوگوں اور غیر ملکی سیاحوں کو بھی لاہور کی جانب متوجہ کرتا تھا۔
بسنت 2027 کی نئی سمت
2026 میں طویل پابندی کے بعد محدود اور سخت نگرانی میں بسنت کی واپسی کے بعد اب پنجاب حکومت نے 2027 میں لاہور میں تین روزہ جشن کا اعلان کیا ہے۔ 12، 13 اور 14 مارچ کی تاریخیں 2026 کے مقابلے میں موسم بہار کے نسبتاً بعد کے مرحلے میں آتی ہیں، تاہم حتمی انتظامات اور حفاظتی ضوابط حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے قواعد کے مطابق ہوں گے۔
پنجاب حکومت نے بسنت 2027 کے لیے نئے حفاظتی قواعد و ضوابط کی تیاری کا عمل بھی شروع کردیا ہے۔ سرکاری ہدایات کے مطابق نئی قواعد سازی کا مقصد پتنگ بازی کے دوران شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
یوں 2027 کی بسنت محض پتنگ بازی کا میلہ نہیں بلکہ لاہور کی ایک قدیم ثقافتی روایت کی واپسی کا اگلا مرحلہ ہوگی، جس میں حکومت کو ایک طرف شہریوں کو تہوار کی آزادی دینا ہوگی اور دوسری طرف خطرناک ڈور، ٹریفک، بجلی کی تاروں، موٹر سائیکل سواروں اور فضائی سلامتی سے متعلق خطرات کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنا ہوگا۔