جنرل عامر رضا نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے پہلے سربراہ مقرر

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان آرمی کے چیف آف جنرل اسٹاف (CGS) لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ (CNSC) مقرر کر دیا ہے۔ اس تقرری کے ساتھ وہ پاکستان کے نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے پہلے سربراہ بن گئے ہیں، جو ملک کے اسٹریٹجک دفاع اور قومی سلامتی کے حوالے سے نہایت اہم ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی، کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر کیا ہے تاکہ قومی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
عسکری سفر اور کیریئر

جنرل عامر رضا کا عسکری سفر آفیسرز ٹریننگ اسکول (OTS) منگلا سے شروع ہوا، جہاں سے تربیت مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1988 میں پاکستان آرمی کی معروف 6th Lancers (Watson’s Horse) رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ انہوں نے بعد ازاں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے اعلیٰ عسکری تعلیم حاصل کی، جبکہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف ناٹنگھم سے بین الاقوامی تعلقات میں بھی اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ تقریباً چار دہائیوں پر محیط اپنے عسکری کیریئر میں جنرل عامر رضا نے متعدد اہم کمانڈ، اسٹاف اور تدریسی ذمہ داریاں نبھائیں۔ وہ 6th Lancers رجمنٹ، ایک آرمرڈ بریگیڈ، جنوبی وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ اور ایک انفنٹری ڈویژن کی کمان کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ چیف آف اسٹاف II کور، ڈائریکٹر جنرل ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ، اسکول آف آرمر اینڈ میکانائزڈ وارفیئر میں انسٹرکٹر، کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں چیف انسٹرکٹر اور فیکلٹی آف ریسرچ اینڈ ڈاکٹرائنل اسٹڈیز (FORADS) کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ دفاعی صنعت میں خدمات سال 2020 سے 2023 تک انہوں نے چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) کی حیثیت سے دفاعی پیداوار کے اہم منصوبوں کی نگرانی کی اور ملکی دفاعی صنعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اکتوبر 2022 میں انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی، جبکہ مئی 2023 میں وہ کور کمانڈر لاہور (IV کور) مقرر ہوئے۔ بعد ازاں جنوری 2025 میں انہیں چیف آف جنرل اسٹاف تعینات کیا گیا، جہاں وہ فوجی آپریشنز، انٹیلی جنس اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کے امور کی نگرانی کرتے رہے۔ ادویات کی قیمتوں کے فیصلے شفاف اور عوامی مفاد میں ہوں: اورنگزیب کے بیانیے کے برعکس، جنرل عامر رضا کا فوکس مکمل طور پر قومی سلامتی اور دفاعی خود انحصاری پر رہا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف آپریشنز
جنرل عامر رضا نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان آرمی کی متعدد اہم کارروائیوں، جن میں آپریشن زلزال، راہِ نجات، ضربِ عضب، ردالفساد اور عزمِ استحکام شامل ہیں، میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلالِ امتیاز (ملٹری) اور ستارۂ بسالت سمیت کئی عسکری اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی اور نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا سربراہ مقرر کیے جانے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جنرل عامر رضا اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، وسیع تجربے اور قائدانہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے اسٹریٹجک دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور قومی سلامتی کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کرغز صدر صدر ژاپاروف سے ملاقات کے دوران بھی علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ جنرل عامر رضا کی تقرری کو ملکی دفاعی ڈھانچے میں تجربہ کار اور پیشہ ور قیادت کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔