حکومت کا چار سالہ حج پالیسی کا اعلان، اخراجات بارہ لاکھ روپے

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے 2027ء سے 2030ء تک کے لیے پاکستان کی تاریخ کی پہلی طویل المدتی چار سالہ حج پالیسی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر تیار کی گئی یہ پالیسی وزیراعظم شہباز شریف کی یوتھ پروگرام کے تحت روزگار کے مواقع بڑھانے کی ہدایت کی طرح عوامی سہولت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت عازمین حج کے لیے فی کس پیکج اندازاً 12 سے 13 لاکھ روپے کے درمیان تجویز کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری اور نجی اسکیم کے درمیان 60 اور 40 فیصد کا کوٹہ برقرار رکھا جائے گا اور کوٹے میں کسی بھی قسم کی کمی یا اضافہ کا اختیار صرف وفاقی کابینہ کے پاس ہوگا۔
چار سالہ پالیسی: ڈیجیٹل رجسٹریشن اور شفافیت کا عزم
سردار محمد یوسف نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار چار سالہ رجسٹریشن اور ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ کی سہولت دی جا رہی ہے، جس کے تحت عازمین اندازاً حج اخراجات کی محض 10 فیصد رقم جمع کروا کر درخواست دے سکیں گے اور رجسٹریشن حاصل کر سکیں گے۔ اس چار سالہ پالیسی کا بنیادی مقصد سعودی عرب میں رہائش، کیٹرنگ اور ٹرانسپورٹ کے طویل المدتی معاہدے کرنا ہے تاکہ اخراجات پر قابو پایا جا سکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان اور سعودی عرب میں تمام تر خریداریاں اور معاہدے شفاف طریقے سے کیے جائیں گے، اور واجبات کی ادائیگی کے بعد جو رقم بچے گی وہ عازمین کو واپس کر دی جائے گی۔ یہ اقدامات سعودی عرب طویل علاقائی تنازعات سے بچنے کی حکمت عملی میں مشکل جیسے چیلنجز کے باوجود حج انتظامات کو منظم بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
نجی آپریٹرز کیلئے سخت شرائط اور نگرانی کا نظام
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ نئی پالیسی کے تحت وزارتِ مذہبی امور کی ذمہ داریوں میں ریگولیشن اور سخت نگرانی کا عنصر شامل کیا گیا ہے۔ نجی حج آپریٹرز کی رجسٹریشن اور کوٹے کی تقسیم اب محض روایتی بنیادوں کے بجائے ان کی کارکردگی اور معیاری سروسز سے مشروط ہوگی۔ عازمین کی سہولت اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل پورٹل اور اپیل کا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے، جبکہ عازمین کی تربیت کو پہلے سے زیادہ مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ “حجاج محافظ اسکیم” کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ یہ پالیسی سعودی وژن 2030 کے عین مطابق ترتیب دی گئی ہے جو 2027 سے 2030 تک حج انتظامات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی، کیونکہ حکومت کی اصل ذمہ داری صرف سفر کا انتظام نہیں بلکہ عازمین کو ایک پاکستانی بندرگاہیں وسطی ایشیا کیلئے اہم ٹرانزٹ ہب بن سکتی ہیں کی طرح مربوط نظام کے تحت باوقار اور آرام دہ روحانی سفر فراہم کرنا ہے۔