حوثیوں کا سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان

دبئی (نمائندہ خصوصی)۔ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی (نیول بلاکیڈ) کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے اور عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل پر منفی اثرات کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
حوثی گروپ کا ‘آنکھ کے بدلے آنکھ’ کا اعلان
حوثی گروپ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں اعلان کیا کہ سعودی عرب کے خلاف بحری پابندی فوری طور پر نافذ کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام یمن پر سعودی عرب کی طویل عرصے سے جاری ناکہ بندی کے جواب میں اٹھایا گیا ہے اور یہ “آنکھ کے بدلے آنکھ” کے اصول پر مبنی ہے۔ اس صورتحال کو اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کے تناظر میں عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
علاقائی کشیدگی اور عالمی توانائی کی ترسیل
حوثی قیادت نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے مزید فوجی کارروائی کی تو اس کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں فریقوں کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو 2022 کی جنگ بندی کے بعد سب سے سنگین صورتحال قرار دی جا رہی ہے۔ حالیہ سفارتی سرگرمیوں میں جیسے کہ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ ہوا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ اور پراکسی گروپس کی سرگرمیاں کس قدر حساس نوعیت اختیار کر چکی ہیں۔
سمندری راستوں کی اہمیت اور خدشات
اس پیش رفت نے باب المندب آبنائے کی سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہاں جہاز رانی متاثر ہوئی تو عالمی سپلائی چین، شپنگ اخراجات، انشورنس پریمیم اور توانائی کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم دفاعی اور بحری امور کے ماہرین کے مطابق صرف اس اعلان سے بھی شپنگ کمپنیاں اپنے بحری راستوں پر نظرثانی اور اضافی حفاظتی اقدامات پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
عالمی معیشت پر اثرات
تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی متعدد علاقائی تنازعات اور سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ خطے کی موجودہ صورتحال اور عالمی طاقتوں کی مصروفیات، جیسے کہ کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ عالمی برادری مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے بارے میں شدید فکرمند ہے۔